مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 91 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 91

91 یا سلیمان کو راجہ گو پادت کا وزیر بیان کیا گیا ہے اور اگر خواجہ نذیر احد کی تحقیق کے مطابق جو او پر گزرگئی ان را جاؤں کے زمانہ کی تعیین میں غلطی واقع ہوگئی ہے تو یہ الجھن دور ہو جاتی ہے۔یہ جولکھا گیا ہے کہ سندیمان صلیب پر مر گیا تھا اور مر کر زندہ ہو گیا تھا یہ خلاف واقعہ ہے بلکہ واقعہ یہ کہ وہ مرے ہی نہ تھے۔انکا مرنا صرف مشہور کر دیا گیا۔عیسی دیو کی دعاؤں اور اسکے ہمدردوں کی کوششوں کے ذریعے خدا نے اسے بچالیا۔چنانچہ نشی محمد الدین فوق لکھتے ہیں: یہ حکم ( سند یمان کو صلیب دینے کا حکم ) معمولی نہ تھا۔لوگوں کو وزیر سے جو بالکل بے گناہ تھا خود بخود ہمدردی ہو گئی بلکہ یہ حکم سن کر پھانسی دینے والے جلا د بھی کانپ اٹھے۔انہوں نے جھوٹ موٹ یہ خبر مشہور کر دی کہ وزیر کو سولی پر چڑھا دیا گیا ہے۔راجہ نے اس خبر کو خوشی سے سنا مگر چونکہ وقت آ پہنچا تھا، دوسرے ہی دن اولاد کی حسرت لئے چل بسا۔سندھی متی مرا نہیں تھا بلکہ زندہ رہا اور تخت کشمیر کا مالک بنا۔“ (حکایات کشمیر صفحہ 21) یوز آسف یا مسیح شہزادہ نبی ایک اور تاریخ کشمیر ( فارسی ) میں بھی یوز آسف کے باہر سے کشمیر میں آنے ،اہل کشمیر کیلئے اسلام سے قبل پیغمبر ہونے اور کشمیر میں وفات کا ذکر آیا ہے۔اس کا نام ” تاریخ واقعات کشمیر ہے اور اسے خواجہ محمد ع دیدہ مری نے 1148ھ میں لکھا ہے۔انکی نسبت سے اسے تاریخ اعظمی کہتے ہیں۔اس میں اولیاء کشمیر کے حالات فارسی میں لکھے گئے ہیں۔اس میں الگ الگ جگہ پر مقبرہ موسیٰ علیہ السلام اور مقبرہ یوز آسف دونوں کا ذکر ہے۔اس کتاب میں جو مطبع محمد لاہور میں 1303ھ میں شائع ہوئی سید نصیر الدین خانیاری ( مقبرہ خانیار ) کا ذکر ہے۔یوز آسف کے مقبرہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے۔در جوار ایشان سنگ قبری واقع شده در عوام مشهور است که آنجا پیغمبر آسوده است که در زمان سابقه کشمیر مبعوث شد که بعد قضیه دور و دراز حکایتی مے نویشد که یکی از سلاطین زاده که براه زهد و تقوی آمده ریاضت و عبادت بسیار کرد برسالت مردم کشمیر مبعوث شده در کشمیر آمده بد عوت خلائق اشتغال نمود بعد رحلت در محله انز مره آسود و در آن کتاب نام آن پیغمبر را یوز آسف نوشت انزی مره و خانیار متصل واقعست اکثر اصحاب کمال خصوصاً مرشد راقم