مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 85 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 85

85 سلیمان که هندوان نامش سندیمان دادند تکمیل گنبد مذکور کرد (سال پنجاه و چهار و نیز بر نردبان نوشت که دریں وقت یوز آسف دعوی پیغمبری می کند و بر دیگر سنگ نردبان هم نوشت که ایستان یسوع پیغمبر بنی اسرائیل است و در کتاب هندوان دیده ام که آنحضرت بعینه حضرت عیسیٰ روح الله على نبينا و عليه الصلواة و السلام بود نام یوز آسف هم گرفت و العلم عندالله عمر خود درین بسر برد بعد رحلت بمحله انز مره آسود نیز می گویند که بروضه آنحضرت انوار نبوت جلوه گرمی باشند۔و راجه گوپادت شصت سال و دو ماه حکومت نموده در گزشت۔» ترجمہ: "راجہ اکھ کے معزول ہونے کے بعد اسکا بیٹا راجہ گو پانند ( گو پادت) حکمران ہوا۔اس کے عہد حکومت میں بہت سے مندر تعمیر ہوئے۔کوہ سلیمان کی چوٹی پر ایک شکستہ گنبد تھا۔راجہ نے اسکی تعمیر کے لئے اپنے وزیروں میں سے ایک شخص سلیمان نامی کو جو فارس سے آیا تھا، مقرر کیا۔ہندوؤں نے اعتراض کیا کہ یہ ملیچھ ہے ہمارے مذہب کا آدمی نہیں۔اس وقت حضرت یوز آسف بیت المقدس سے وادی اقدس ( کشمیر ) کی جانب مرفوع ہوئے اور آپ نے پیغمبری کا دعویٰ کیا۔شب و روز عبادت الہی میں مشغول تھے اور تقویٰ اور پارسائی کے اعلیٰ درجہ کو پہنچ کر خود کو اہل کشمیر کی رسالت کیلئے مبعوث قرار دیا اور دعوت خلائق میں مشغول تھے۔چونکہ خطہ کشمیر کے اکثر لوگ آنحضرت (یوز آسف) کے عقیدت مند تھے راجہ گو پادت نے ہندوؤں کا اعتراض انکے سامنے پیش کیا اور آنحضرت کے حکم سے سلیمان نے جسے ہندوؤں نے سند یمان کا نام دیا، گنبد مذکور کی تکمیل کی ( 54 ء ) اس نے گنبد کی سیڑھی پر لکھا کہ اس وقت یوز آسف نے دعویٰ پیغمبری کیا ہے اور دوسری سیڑھی پر لکھا کہ آپ بنی اسرائیل کے پیغمبر یسوع ہیں۔(مصنف کہتا ہے ) کہ میں نے ہندوؤں کی کتاب میں دیکھا ہے کہ آنحضرت (یوز آسف) بعینہ حضرت عیسی روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام تھے اور آپ نے یوز آسف کا نام بھی اختیار کیا ہوا تھا۔والعلم عنداللہ۔آپ نے اپنی عمر اسی جگہ بسر کی اور وفات کے بعد محلہ انز مرہ (سرینگر ) میں دفن ہوئے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آنحضرت کے روضہ سے انوار نبوت جلوہ گر ہوتے ہیں۔راجہ گو پادت نے ساٹھ سال دوماہ حکومت کرنے کے بعد انتقال کیا۔“ ( تاریخ کشمیر ( فارسی قلمی ) صفحه 69) قوسین میں دیے گئے الفاظ کرم خوردہ تھے جو بڑی مشکل سے پڑھے گئے۔تاریخ کشمیر قلمی صفحہ 169 جس کا عکس اگلے صفحے پر شائع کیا جارہا ہے۔