مسیح کشمیر میں — Page 36
36 حضرت داؤد علیہ السلام نے جب دعاؤں میں انتہائی عجز وزاری اور نالہ وفریاد کی تو خدا تعالیٰ نے کشف میں انہیں اس مظلوم شخص کا جس کے بچانے کیلئے وہ دعائیں کر رہے تھے موت سے بیچ کر دور دراز سفر کرنے اور جنت نظیر ملک میں پہنچنے کا نظارہ بھی دکھلا دیا جو سرسبز وشاداب تھا۔جس پر وہ بہت خوش ہوتے ہیں اور خدا کی حمد وستائش کے گیت گاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لوگو! خوشی کے گیت گا ؤ بربط اور ستیار پر گیت گاؤ، مرد، عورتیں ، جوان، بوڑھے سب خدا کی حمد و تمجید کرو جس نے مصیبت زدہ کو دشمنوں سے چھڑالیا۔موت سے بچالیا اور فتح مند کیا اور زمین پر ایسے صحت افزا اور جنت نظیر ملک میں اسے پناہ دیدی جہاں دشمن نہیں پہنچ سکتے۔وہ مبارک ہوگا اور اسے عمر درازی کی برکت حاصل ہوگی۔پس دس تار کے بربط کے ساتھ خدا کی ستائش کرو۔بلند آواز سے اچھی طرح بجاؤ اور خدا کا نیا گیت گا ؤ کیونکہ خدا کا کلام راست ہے۔اس نے حکم دیا اور واقع ہو گیا۔(دیکھوز بور 33 آیت 1 تا 9) جنت نظیر وادی میں چنانچہ زبور 30 میں حضرت داؤد علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اے خداوند ! میں تیری تمجید ( بزرگی کا اظہار ) کروں گا ، تو نے مجھے سرفراز کیا ہے اور میرے دشمنوں کو مجھ پر خوش نہیں ہونے دیا۔( آیت 1 ) اے خداوند تو میری جان پاتال ( قبر ) سے نکال لایا ہے۔تو نے مجھے صحت یاب کیا۔( آیت 3 ) تو نے مجھے زندہ رکھا ہے کہ قبر میں نہ جاؤں۔( آیت 4) اے خداوند ! تو نے مہربانی سے میرے مضبوط پہاڑ کو خوب قائم رکھا ہے۔( آیت 7 ) خداوند کی ستائش کرو! اےاس کے مقدسو! اس کے قدس کو یاد کر کے شکر گزاری کرو۔(آیت 4) تو نے میرے ماتم کو ناچ سے بدل دیا۔تو نے میرا ٹاٹ اتار ڈالا اور مجھے خوشی سے کمر بستہ کیا تا کہ میری روح تیری مدح سرائی کرے۔اے خداوند ! میں ہمیشہ تیرا شکر گزار رہوں گا۔( آیت 12) زبور میں ہے ، میں تیرے پروں کے سایہ میں پناہ لوں گا (آیت 4 ) زبور 63 میں ہے ، اے خدا مجھے خشک زمین سے اس زمین میں لے چل جس میں پانی کثرت سے ہے اور وہ سر سبز ہے۔میں اس کا بہت مشتاق ہوں ( آیت ( 1 ) زبور 27 آیت 13 میں ہے، اگر مجھے یقین نہ ہوتا کہ میں زندوں کی زمین میں خدا کا احسان دیکھوں گا تو میں جنبش کھا تایا میں بے حواس ہو جاتا۔تفسیر زبور میں لکھا ہے زندوں کی زمین میں نہ مردوں کی زمین (صفحہ 123 ) یعنی زمین پر زندہ لوگوں کو پیغام حق پہنچاؤں گا۔اس سے مسیح کے آسمان پر جانے کی نفی ہو جاتی ہے۔زبور 69 آیت 29 میں دعا کی ہے کہ اے خدا ! تیری مخلصی مجھے بلند اور بلند جگہ میں پہنچا