مسیح کشمیر میں — Page 10
10 انجیلیں بھی اسکی تائید کرتی ہیں۔چنانچہ متی کی انجیل باب 15 آیت 24 میں ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا کہ میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔“ اپنے شاگردوں کو بھی ہدایت کی غیر قوموں کی طرف نہجانا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا۔(متی باب 10 آیت 5-6) اور یوحنا کی انجیل کی یہ آیت تو مشہور ہے ”میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانہ کی نہیں مجھے ان کو بھی لانا ضرور ہے وہ میری آواز کو سنیں گی پھر ایک ہی گلہ اور ایک ہی چرواہا ہوگا۔“ ( یوحنا باب 10 آیت 16) اس آیت میں استعارہ اور بھیڑوں“ سے مراد وہ بنی اسرائیل ہیں جو فلسطین سے باہر غیر قوموں میں منتشر تھے یعنی افغانستان ، ہندوستان ، تبت اور کشمیر میں آباد تھے۔لہذا مسیح کیلئے جیسے شام کے بنی اسرائیل کو پیغام الہی پہنچانا ضروری تھا۔اسی طرح آپ کے لئے افغانستان سے لے کر کشمیر تک کے بنی اسرائیل کو بھی پیغام الہی پہنچانا ضروری تھا تا کہ ایک ہی گلہ بن جائیں اور ایک ہی چرواہے کے ماتحت ہوں اور اگر آپ کشمیر اور افغانستان وغیرہ ملکوں کے بنی اسرائیل کو پیغام الہی پہنچانے سے قبل ہی آسمان پر جا بیٹھتے تو آپ کا فرض منصبی نا تمام رہتا۔مگر ایسا نہیں ہوا کیونکہ خدا کے پیغمبر اپنا فرض منصبی پورا کر کے وفات پاتے ہیں اس سے قبل نہیں۔مسیح کو اپنا فرض منصبی یہ سمجھا یا گیا تھا کہ دوسری گمشدہ بھیڑوں کے پاس ان کا خود جانا ضروری ہے اور حز قیل نبی نے وضاحت سے پیشگوئی کی تھی کہ کھوئی ہوئی بھیڑوں کو تلاش کرنے کیلئے خدا ایک خاص رسول انکے پیچھے بھیجے گا جو خود انہیں جگہ جگہ سے تلاش کرے گا اور بنفس نفیس خدا کا پیغام پہنچائے گا۔جیسا فرمایا ”خداوند خدا فرما تا ہے دیکھ! میں خودا اپنی بھیڑوں کی تلاش کروں گا اور ان کو ڈھونڈ نکالوں گا جس طرح چرواہا اپنے گلہ کی تلاش کرتا ہے جبکہ وہ اپنی بھیڑوں کے درمیان ہو جو پراگندہ ہوگئی ہیں۔اسی طرح میں اپنی بھیڑوں کو ڈھونڈوں گا اور ان کو ہر جگہ سے جہاں وہ ابر اور تاریکی کے دن نثر بتر ہوگئی ہیں چھڑا لاؤں گا۔“ (دیکھو حز قیل باب 34 آیت 11 تا12) اسی پیشگوئی کی بنا پر حضرت مسیح نے اپنا ایک نام یسوع آسف“ بھی رکھ لیا تھا جو یوز آسف بن گیا۔آسف کے معنی عبرانی میں ہیں قوم کو تلاش کرنے والا۔چنانچہ حضرت مسیح اپنا فرض منصبی ادا کرنے کیلئے خود فلسطین سے ہجرت کر کے افغانستان و کشمیر میں پہنچے تا کہ خدا کا پیغام خود آپ کے ذریعہ سے ان تک پہنچ جائے اور وہ خدا کے سامنے اپنا فرض منصبی پورا کر کے رفعت و سرخروئی حاصل کر سکیں۔اگر آپ ہجرت کر کے اپنا فرض منصبی ادا نہ کرتے اور خدا انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیتا تو حضرت مسیح