مسیح کشمیر میں — Page 100
100 22- آسمان کی دائی بادشاہت میں داخل ہونا چاہئے جسے کبھی زوال نہیں اسکے مقابلہ میں دنیوی بادشاہت ہمیشہ زوال پذیر ہے۔یہ بھی فرماتے تھے کہ : 23۔میں ہمیشہ سیاحت کرتا ہوں، میرا نہ مکان ہے ، نہ سواری ، نہ سونا چاندی، نہ صبح وشام کا کھانا نہ زائد کپڑا اور کسی شہر میں چند دنوں سے زیادہ نہیں ٹھہرتا۔24۔جو بات ہاتھ سے چلی جائے اس پر افسوس نہ کر ، جو بات ہو نہیں سکتی اسے سچ نہ جان، جو چیز مل نہیں سکتی اس کی جستجو نہ کر۔25۔دین کا خلاصہ دو چیزوں پر ہے (1) خدا کی معرفت (2) خدا کی خوشنودی کا حصول۔26- خدا کو ایک مانو تو خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے نیز اسے مہربان، رحمت والا ،انصاف والا اور ہر چیز پر قادر سمجھو، وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔27۔خدا کی خوشنودی کے حصول کا طریق یہ ہے کہ انسان دوسروں سے وہی برتاؤ کرے جو اپنے ساتھ کرنا پسند کرتا ہے اور ان سے ایسے سلوک سے باز رہے جس سے وہ چاہتا ہے کہ دوسرے ایسا سلوک کرنے سے باز رہیں، کیونکہ اس میں انصاف ہے اور انصاف سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔جو باتیں نبیوں اور رسولوں نے بتلائی ہیں انسان ان پر عمل کرے اور جن سے منع کیا ہے ان سے باز رہے۔28۔سوائے نیک اعمال کے دنیا کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔سب چیزیں انسان سے چھن جاتی ہیں۔29- تقدیر وتدبیر بمنزلہ روح و جسد کے ہیں روح بغیر جسد کے کچھ کام نہیں آسکتی اور جسد بغیر روح کے کچھ کام نہیں آسکتا۔دونوں کے جمع ہو جانے سے بڑے بڑے کام ہو جاتے ہیں۔یہی حال تدبیر و تقدیر کا ہے۔30۔کوئی شخص آسمانی بادشاہت کو نہیں پاسکتا ہے نہ اس میں قدم رکھ سکتا ہے جب تک علم و ایمان اور اعمال خیر کی تکمیل نہ کرے اسلئے محنت کر کے نیک اعمال کرو تا کہ تمہیں ابدی راحت اور ابدی حیات مل سکے اور یہ بھی ضروری ہے کہ ایمان میں کوئی دنیوی طمع اور خواہش حائل نہ ہو۔جس نے دنیا کا فریب کھایا وہ ذلیل و خوار ہوا۔ہر وقت موت کو یا درکھو، یہی تعلیم ہے جسے اگلے انبیاء لائے اور اس زمانہ کے لوگوں کیلئے خدا نے مجھے یہ تعلیم دے کر معمور فرمایا تا کہ لوگ نجات حاصل کریں، یعنی برے اعمال سے بچیں انجیل متی میں آسمانی بادشاہت کا ذکر باب 5 آیت 3/10, 41,7/21-25/34 ،لو قاباب 13 آیت 37 و باب 20 آیت 35 - ایمان کی حفاظت کرو جیسے میں نے کی (2 تیمتھیس باب 4 آیت 7 )