مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 481 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 481

مصالح العرب۔جلد دوم فطرت یہ پیغام قبول کرتی ہے لا مكرم عبد اللہ صاحب عراق سے لکھتے ہیں: 453 میں عراق کی ایک غریب سی بستی کا باشندہ ہوں۔Law میں ڈگری کی ہوئی ہے۔انجوار المباشر اور اجوبہ عن الایمان اور خطابات اور قصائد کے ذریعہ آپ کی جماعت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بلندی فکر کا پتہ چلا۔جب مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لائے ہوئے پیغام کو سمجھنے کی تو فیق ملی تو میں نے دیکھا کہ میری فطرت نے اسے قبول کیا ہے۔جب میں نے اس بات کا اظہار سر عام کرنا شروع کیا تو بعض متکبر مولویوں کے ہاتھوں مجھے ظلم کا نشانہ بھی بننا پڑا۔مجھے آپ کے علاوہ اور کہیں جائے رحمت اور جائے پناہ نظر نہیں آتی۔میری کیفیت اس پیاسے کی سی ہو رہی ہے جو صحرا میں صاف پانی کو ترس رہا ہو۔تسکین قلب میسر آگئی مکرم حسین محمد حس محمد نعیمی صاحب عراق سے لکھتے ہیں: میں چالیس سالہ سنی عراقی مسلمان ہوں۔بیس سال سے حق کی تلاش میں لگا ہوں اور اب آپ کے چینل کو دیکھ کر تسکین قلب حاصل ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ اس مبارک چینل کو مجھ جیسوں کے لئے علم و ہدایت کا مینار بنائے۔میں بہت سے مسلمان بھائیوں سے بعض فقہی و عقائدی امور میں اختلاف رکھتا ہوں حتی کہ بعض امور عبادت میں بھی مجھے ان سے اختلاف ہے لہذا آج کل مساجد میں نہیں جاتا بلکہ گھر میں ہی نمازیں پڑھتا ہوں۔اب آپ کے چینل کو دیکھا تو ایسے لگا ہے کہ اب مجھے وہ چیز مل گئی ہے جس کی مجھے تلاش تھی اور دل کو تسلی ہوئی ہے۔امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے بھی اس جماعت میں قبول فرمائیں گے۔میں اس جماعت کی اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے خدمت کروں گا۔از راہ کرم مجھے جماعت کے بارے میں مزید معلومات اور کتب فراہم فرمائیں تاکہ میں ان لوگوں کو اس حق کی تبلیغ کروں جن تک ابھی یہ باتیں نہیں پہنچیں اور جو حق کے متلاشی ہیں۔اللہ تعالیٰ حضرت مرزا غلام احمد صاحب پر رحمتیں نازل فرمائے اور سب کو اسلام