مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 61
49 49 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم ہو سکے کہ اس عرصہ کے سیاسی حالات کا دینی ماحول پر کس طرح اثر پڑا۔اشتراکی نظام کی طرف میلان نے شام کے علاوہ اردگرد کے دیگر ممالک میں بھی نہ صرف سیاسی بلکہ دینی جماعتوں پر بھی پابندی لگادی۔حتی کہ بعض ممالک میں مذہبی سرگرمیاں بھی بعض ایسے حکمرانوں کے زیر تسلط آگئیں جن کا دین سے دور کا واسطہ بھی نہ تھا۔اس کی ایک جھلک ذیل میں درج کی جاتی ہے۔جمال عبدالناصر کے نام ایک اہم مکتوب ساٹھ کی دہائی کی ابتداء میں جب کہ شام اشتراکیت کی لپیٹ میں تھا جماعت احمدیہ پر پابندی لگا دی گئی، جماعت کے مرکز کو حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا اور افراد جماعت کو بحیثیت جماعت اپنی سرگرمیوں سے روک دیا گیا۔ایسی صورتحال میں جناب سید میر داؤد احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمد یہ ربوہ نے صدر جمہوریہ مصر جمال عبد الناصر کی خدمت میں ایک اہم مکتوب ارسال کیا جس کا عربی متن انہی دنوں جامعہ احمدیہ کے ترجمان البشری کے شمارہ رمضان 1380ھ مطابق مارچ 1961 ء صفحہ 40-39 میں بھی شائع کر دیا گیا تھا۔جو درج ذیل کیا جاتا ہے: "كتاب الى الرئيس جمال عبد الناصر سيادة الرئيس السلام علکیم و رحمة الله و بركاته و بعد، فاني أتشرف بأن ألفت أنظار سيادتكم إلى ما حصل بدمشق (الإقليم الشمالى ( من مصادرة مركز الجماعة الإسلامية الأحمدية وحرمان أعضائها من مزاولة الحرية الدينية والفكرية التي يقدر دستور الجمهورية العربية المتحدة كما يحترسها سائر دساتير العالم إن هذا الإجراء الشاذ قد أحدثت هزة شديدة في عموم أعضاء الجماعة الأحمدية المنتشرة فى أقطار العالم كافة، هذه الجماعة هي دينية تؤمن بجميع المبادئ الإسلامية السامية القويمة إيمانا راسخا، و لا تدخر وسعا في سبيل الدفاع عن