مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 55
43 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم جذبے اور ولولہ پر منحصر ہے جس کو لے کر آپ ترقی کی شاہراہ پر چلیں گے۔اور ہم دیانتداری کی سے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے صرف سیاسی بیداری ہی کافی نہیں۔بلکہ جب تک اللہ تعالیٰ کی حکومت انسانی قلوب پر قائم نہ ہو جائے دنیا کو امن وسکون نہیں ہو سکتا۔اس لئے ہم آئمکرم کی خدمت میں خلوص قلب سے عرض کرتے ہیں کہ ہندوستان اور دنیائے عرب کے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے۔صرف سیاسی حیثیت سے نہیں بلکہ اس لحاظ سے بھی کہ پھر ہم اپنے خدا کو پالیں۔اس زمانہ میں جب کہ مادی طاقتیں اپنے عروج پر ہیں یہ ایک فطرتی تمنا ہے کہ ہم جمہوریہ متحدہ عرب سے توقع رکھیں کہ وہ دنیا کی گمشدہ کڑی کو واپس لائے۔وہ گمشدہ کڑی جو بندے اور اُس کے خالق و مالک سے تعلقات محبت کو از سر نو قائم کر دے۔اور حقیقت میں یہی وہ عربی روایات ہیں جنہوں نے عربی نسل کو دنیا میں ایک اتحاد پیدا کرنے والی طاقت بنا دیا تھا۔صدر محترم! آپ نے علیگڑھ میں خطاب فرماتے ہوئے یہ امر بالکل بجا فرمایا تھا کہ آئندہ سائنس کی اجارہ داری سرمایہ داری کی ایک نئی قسم ہوگی“۔سرمایہ داری کیا بلکہ مادیت کی نئی شکل وصورت ہوگی۔ہم سرمایہ داری یا مادیت کی اس نئی شکل وصورت پر قابو نہیں پا سکتے جب تک کہ انسان کی سرمایہ دارانہ ذہنیت یا مادیت کی رگوں میں مذہب اور روحانیت کا ٹیکہ نہ لگائیں۔پس اس الحادو مادیت کے قلع قمع اور روحانیت و انسانیت کے اُجاگر کرنے کے لئے ہی تحریک احمدیت خدا تعالیٰ کی طرف سے قائم کی گئی ہے۔احمدیت کوئی انسانی تحریک نہیں۔خالص خدا کی قائم کردہ ہے۔اور اس کا قیام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُن پیشگوئیوں کے عین مطابق عمل میں آیا ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور غلبہ دین کے لئے ظہور مہدی ومسیح موعود کی ذات سے وابستہ تھیں اور اشاعت اسلام کی جو شاندار خدمات اس جماعت نے اب تک انجام دی ہیں وہ أظهر من الشمس ہیں۔ہم آپ کی خدمت میں اسلامی اصول کی فلاسفی ( جو کہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود اور مہدی و معہود کی تالیف تصنیف ہے ) کا عربی ترجمہ "الخطاب الجلیل اور دوسرے لڑ پچر کا تحفہ ارسال کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔بظاہر یہ معمولی چیز ہے مگر