مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 44
34 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم اس قدر مخلص تھے کہ باوجود اس کے کہ ابھی تک کام کا معاوضہ بھی نہیں ملا تھا آپ نے خود ہی یہ فیصلہ کیا کہ حضرت مولانا نورالدین کی مطلوبہ کتب اگر مصر سے دستیاب ہو سکتی ہیں تو مصر کا سفر اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔اور پھر بے سرو سامانی کی حالت میں یہ سفر اختیار کیا جس کا ایک بڑا حصہ پیدل طے کیا۔اور سب سے بڑی بات یہ کہ حضرت خلیفہ اول کو روانگی کے بارہ میں کچھ نہیں بتایا بلکہ مصر پہنچ کر خط لکھا کہ میں مصر میں مطلوبہ کتب نقل کر رہا ہوں۔لائبریری میں سیاہی ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی لہذا آپ کتب کی نقل پنسل کے ساتھ کرتے تھے اور رات کو گھر میں سیاہی کے ساتھ لکھتے رہتے تھے۔اس کے علاوہ جامعہ الا زہر کے درس میں بھی شریک ہوتے اور باقی وقت پھیری لگا کر اپنے گزارہ کا سامان کرتے۔اس بے بضاعتی کے باوجود آپ نے مصر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتابوں کی اشاعت کی۔چنانچہ اخبار بدر 14 / نومبر 1902 ء سے پتہ چلتا ہے کہ 3 نومبر 1902 ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں بھی آپ کی تبلیغی خدمات کا ذکر آیا تھا۔چنانچہ لکھا ہے: مولوی غلام نبی صاحب احمدی کا خط مصر سے حکیم الامت مولوی نورالدین صاحب کے نام آیا تھا۔وہ حضرت اقدس کی کتابوں کی خوب اشاعت کر رہے ہیں۔“ حضرت مولوی صاحب مصر میں تین سال تک قیام کرنے کے بعد اپریل 1905ء میں وطن واپس پہنچے۔اخبار بدر 27 اپریل 1905ء میں آپ کی آمد کی خبر ان الفاظ میں شائع ہوئی: ملک مصر سے مولوی غلام نبی صاحب احمدی واپس ہندوستان تشریف لائے ہیں۔قریبا تین سال تک انہوں نے اس ملک میں قیام کیا اور نیز سلسلہ احمدیہ کی اشاعت میں مصروف رہے ہیں۔“ قیام مصر کے دوران مولوی صاحب نے چند مخالفوں کے ساتھ مباحثات بھی کئے۔چنانچہ ایک مباحثہ دربارہ حیات و وفات مسیح ناصری ملک مصر میں اپنے خرچ پر طبع بھی کروایا جس کی بعض کا پیاں آپ ساتھ بھی لائے تھے۔اس کا نام ہدیہ سعدیہ رکھا تھا۔مصر سے واپسی کے بعد آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں استاد مقرر ہوئے۔آر سے دینیات کی تعلیم حاصل کرنے والے اصحاب میں حضرت حافظ روشن علی صاحب ، سید عبدا تھی صاحب عرب ، اور ابوسعید عرب صاحب شامل ہیں۔( تاریخ احمدیت جلد 18 صفحہ 290 تا 298 )