مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 43
مصالح العرب۔جلد دوم حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری کی وفات حضرت مولانا غلام نبی صاحب نہایت خاموش طبیعت اور بے نفس بزرگ صحابی تھے۔آپ نے 1898ء میں بیعت کی اور 27 اپریل 1956ء کو آپ کی وفات ہوئی۔آپ کو مصر میں بھی تبلیغ احمدیت کی توفیق ملی۔آپ کی سیرت کے بعض نورانی پہلوؤں کے ساتھ مصر میں تبلیغ کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔آپ کی تمام عمر تعلیمی خدمات بجا لانے میں وقف رہی۔قرآن کریم سے عشق تھا اور مطالعہ کا جنون کی حد تک شوق۔آپ کے والد صاحب نے بچپن میں آپ کو ایک مولوی رکھ کر دیا جس نے آپ کو قرآن پڑھایا۔آپ نے ان مولوی صاحب کی اس قدر عزت کی کہ اپنی زمین کا ایک ٹکڑا ان کی خدمت میں ہدیہ پیش کر دیا۔طب کی تعلیم بھی حاصل کی اور ہجرت کر کے قادیان آگئے۔حضرت مولوی نور الدین خلیفہ امسح الاول کو کتا میں جمع کرنے کا ایک عشق تھا۔اس سلسلہ میں آپ کی نظر انتخاب مولانا غلام نبی صاحب پر پڑی۔چنانچہ آپ کو نایاب اور قدیم کتابوں اور قلمی نسخوں کی نقل کرنے کیلئے بھوپال بھجوا دیا۔قیام بھوپال کے دوران آپ نے کمال محنت اور عرقریزی سے کام لیا اور مفوضہ کام بلا معاوضہ کرتے رہے۔لیکن بھو پال کے کتب خانہ سے بھی آپ کو مولانا نور الدین کی بعض مطلوبہ کتب نہ مل سکیں اور آپ کو معلوم ہوا کہ یہ کتب مصر سے دستیاب ہو سکیں گی۔اس پر آپ بھوپال سے مصر کے لئے روانہ ہو گئے۔اس وقت آپ کے پاس چند ایک روپے اور ایک کمبل تھا۔کراچی آکر اسے فروخت کیا اور کرایہ بنا کر بصرہ جا پہنچے۔بصرہ سے آگے مصر تک کا سفر پیدل طے کیا۔اگر کوئی قافلہ مل جاتا تو اس کے ساتھ شامل ہو جاتے ورنہ اکیلے ہی چلتے رہتے۔بالآخر کئی دنوں کی مسافت کے بعد آپ مصر پہنچ گئے۔اپنے کام کے ساتھ 33