مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 579 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 579

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم مضمون کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔551 فرمایا: ” اگر حاکم ظالم ہو تو اُس کو برا نہ کہتے پھرو بلکہ اپنی حالت میں اصلاح کرو، خدا اُس کو بدل دے گا یا اُسی کو نیک کر دے گا۔جو تکلیف آتی ہے وہ اپنی ہی بدعملیوں کے سبب آتی ہے۔ورنہ مومن کے ساتھ خدا کا ستارہ ہوتا ہے، مؤمن کے لئے خدا تعالیٰ آپ سامان مہیا کر دیتا ہے۔میری نصیحت یہی ہے کہ ہر طرح سے تم نیکی کا نمونہ بنو۔خدا کے حقوق بھی تلف نہ کرو اور بندوں کے حقوق بھی تلف نہ کرو۔“ الحکم 24 مئی 1901 ء۔نمبر 19 جلد 5 صفحہ 9 کالم نمبر 2) یہ نہایت حکیمانہ نصیحت ہے۔اگر سارا ملک اسی نہج پر سوچنے لگے اور ہر ایک اپنی اصلاح کی کوشش کرے تو بالآ خر حاکم تو انہیں میں سے منتخب ہوگا جو نیک ہوگا۔نیز حاکم چاہے جتنا برا ہو اگر اسکے ساتھ کام کرنے والے سب نیک ہوں اور برے کاموں میں اسکے ساتھ شامل نہ ہوں اور خلاف شرع کاموں میں اسکی اطاعت نہ کریں تو وہ اپنے برے کاموں کی انجام دہی سے خود ہی عاجز آ جائے گا۔اس لحاظ سے یہ نصیحت نہایت اعلیٰ درجہ کی حکمت پر مبنی ہے۔(مندرجہ بالا اقتباسات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمع فرمودہ یکم اپریل 2011 ء سے لئے گئے ہیں۔) علاوہ ازیں حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 15 اپریل 2011 کو بھی اسی موضوع پر خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی كتاب الهُدى وَالتَّبْصِرَةُ لِمَن يراى“ سے مختلف اقتباسات پیش فرمائے جس میں آپ نے سوسال سے زائد عرصہ قبل حکمرانوں کے اور علماء کے حالات بیان فرمائے تھے جو آج کی صورتحال پر بھی صادق آتے ہیں۔اور اس حوالے سے آپ نے عرب ممالک کے رہنے والے حکام اور عوام کی عمومی راہنمائی فرمائی۔