مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 575 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 575

547 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم کے الفاظ ہیں کہ وَاَنْ لَّا نُنَا زَعَ الْاَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَن تَرَوْا كُفْرًا بَوَّاحًا عِنْدَكُم مِنَ اللهِ فِيه بُرْهَانُ۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ اقرار بھی لیا کہ جو شخص حاکم بن جائے ہم اُس سے جھگڑا نہیں کریں گے سوائے اس کے کہ تم اعلانیہ اُس کو کفر کرتے ہوئے دیکھو جس پر تمہارے پاس اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔حدیث کے یہ جو آخری الفاظ ہیں ان کے معنی بعض سلفی ، وہابی اور باقی متشدد دینی جماعتیں یا جو فرقے ہیں وہ یہ لیتے ہیں کہ صرف اُس وقت تک حکام سے لڑائی جائز نہیں جب تک کہ اُن سے کفر 3 اح نہیں ظاہر ہو جاتا ( کھلا کھلا کفر ظاہر نہیں ہو جاتا)۔اگر حاکم سے کفر اح نظر آ جائے تو پھر اس کے ازالے کے درپے ہونا اور اُس سے حکمرانی چھین لینا فرض ہے۔یہی متشدد جماعتیں ہیں جنہوں نے اس پر یہ دلیل سوچ رکھی ہے کہ حکومتوں کے خلاف بغاوت کی جاسکتی ہے۔بلکہ بعض اپنے فتووں کو آپس میں ہی اتنا مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فتوے دینے والے یہ کہتے ہیں کہ جن کو ہم نے کافر قرار دے دیا اُن کو جو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے۔اور کافرکو کافر نہ سمجھے والا بھی کافر ہے۔تو یہ جو تکفیر ہے اس کا ایک لمبا سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے۔بہر حال اس حدیث میں اصل الفاظ یہی ہیں کہ تم نے اطاعت کرنی ہے سوائے اس کے کہ ایسی بات کی جائے جو کفر کی بات ہو یا تمہیں کفر پر مجبور کیا جا رہا ہو۔اس کے علاوہ ہر معاملے میں اطاعت ہونی چاہئے اور اُس صورت میں بھی بغاوت نہیں ہے بلکہ وہ بات نہیں مانتی۔“ نا پسندیدہ کام کو ہاتھ سے تبدیل کرنے کا درست فہم ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی ناپسندیدہ کام دیکھے وہ اُسے اپنے ہاتھ سے بدل دے۔اگر اسے طاقت نہ ہو تو پھر اپنی زبان۔اور یہ طاقت بھی نہ ہو تو پھر اپنے دل سے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔(صحیح مسلم۔کتاب الایمان) بعض لوگ اس کے غلط معانی بیان کر کے ملک میں ناپسندیدہ کاموں کو خود دخل اندازی کر کے درست کرنے کا جواز نکالتے ہیں۔حضور انور نے اس خیال کی بھی تصحیح فرمائی اور اس