مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 574 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 574

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 546 سلمہ بن یزید الجھی نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی یا رسول اللہ ! اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہوں جو ہم سے اپنا حق مانگیں مگر ہمارا حق ہمیں نہ دیں تو ایسی صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے حالات میں اپنے حکمرانوں کی بات سنو اور اُن کی اطاعت کرو۔جو ذمہ داری اُن پر ڈالی گئی ہے اُس کا مواخذہ اُن سے ہوگا اور جو ذمہ داری تم پر ڈالی گئی ہے اُس کا مواخذہ تم سے ہو گا۔کھلا کھلا کفر دیکھنے کی حالت میں تعلیم (مسلم کتاب الامارة ) ، بعض متشدد جماعتوں کا یہ موقف ہے کہ کھلا کھلا کفر دیکھنے کی صورت میں بغاوت جائز ہے اور حکمرانوں کے ساتھ جھگڑا کرنا عین شریعت کے مطابق ہے۔اس غلط طرز فکر کا جواب دیتے ہوئے حضور انور نے فرمایا: " " جنادہ بن امیہ نے کہا کہ ہم عبادہ بن صامت کے پاس گئے۔وہ بیمار تھے۔ہم نے کہا اللہ تمہارا بھلا کرے ہم سے ایسی حدیث بیان کرو جو تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔اللہ تم کو اُس کی وجہ سے فائدہ دے۔اُنہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلا بھیجا۔ہم نے آپ سے بیعت کی۔آپ نے بیعت میں ہمیں ہر حال میں خواہ خوشی ہو یا نا خوشی تنگی ہو یا آسانی ہو اور حق تلفی میں بھی یہ بیعت لی کہ بات سنیں گے اور مانیں گے۔آپ نے یہ بھی اقرار لیا کہ جو شخص حاکم بن جائے ہم اُس سے جھگڑا نہ کریں سوائے اس کے کہ تم اعلانیہ اُن کو کفر کرتے دیکھو جس کے خلاف تمہارے پاس اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔( صحیح مسلم کتاب الامارة ) ان احادیث میں اُمراء اور حکام کی بے انصافیوں اور خلاف شرع کاموں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن پھر بھی آپ نے یہ فرمایا کہ ان کے خلاف بغاوت کرنے کا تمہیں حق نہیں ہے۔حکومت کے خلاف مظاہرے ، توڑ پھوڑ اور باغیانہ روش اختیار کرنے والوں کا طرز عمل خلاف شریعت ہے۔اس آخری حدیث کی مزید وضاحت کر دوں کہ اس حدیث کے آخری الفاظ میں جو عربی