مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 568
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 540 تک اس طرف توجہ نہیں کریں گے، دنیاوی لالچ بڑھتے جائیں گے۔اصلاح کے لئے راستے بجائے روشن ہونے کے اندھیرے ہوتے چلے جائیں گے۔اس کے علاوہ اب اور کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ تقویٰ کا حصول خدا تعالیٰ سے تعلق کے ذریعے سے ہی ملنا ہے۔اور خدا تعالیٰ سے تعلق اُس اصول کے تحت ملے گا جس کی رہنمائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی ، اللہ تعالیٰ نے فرما دی۔“ نظام خلافت ہی حل ہے حضور انور نے ایک ویب سائٹ کی خبر کا ذکر فرمایا اور آخر پر اس خبر میں موجود امور کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش فرمایا: ” یہ اُس کی باتوں کا خلاصہ ہے، مسلمانوں کو ایک کرنے کے لئے ، انصاف قائم کرنے کے لئے ، دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے یقیناً نظام خلافت ہی ہے جو صحیح رہنمائی کر سکتا ہے۔حکمرانوں اور عوام کے حقوق کی نشاندہی اور اس پر عمل کروانے کی طرف توجہ یقیناً خلافت کے ذریعے ہی مؤثر طور پر دلوائی جاسکتی ہے۔یہ لکھنے والے نے بالکل صحیح لکھا ہے لیکن جو سوچ اس کے پیچھے ہے وہ غلط ہے۔جو طریق انہوں نے بتایا ہے کہ عوام اٹھ کھڑے ہو جائیں اور نظام خلافت کا قیام کر دیں، یہ بالکل غلط ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ نظام خلافت سے وابستگی سے ہی اب مسلم امہ کی بقا ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا اس تنظیم نے مسلمانوں کی حیثیت منوانے اور ان کو صحیح راستے پر چلانے کے لئے بہت صحیح حل بتایا ہے لیکن اس کا حصول عوام اور انسانوں کی کوششوں سے نہیں ہو سکتا۔کیا خلافت راشدہ انسانی کوششوں سے قائم ہوئی تھی۔باوجود انتہائی خوف اور بے بسی کے حالات کے اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دل پر تصرف کر کے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لئے کھڑا کر دیا تھا۔پس خلافت خدا تعالیٰ کی عنایت ہے۔مومنین کے لئے ایک انعام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کچھ عرصہ تک خلافت راشدہ کے قائم ہونے کی پیشگوئی فرمائی تھی۔اور اس کے بعد ہر آنے والا اگلا دور ظلم کا دور ہی بیان فرمایا تھا۔پھر ایک امید کی کرن دکھائی جو قرآنی پیشگوئی وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة :4) میں نظر آتی ہے اور اس کی وضاحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم