مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 567 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 567

539 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم قوموں کی حیثیت سے جانا جاتا ہے یا کچھ ترقی پذیر کہلاتی ہیں۔بعض جن کے پاس تیل کی دولت ہے، وہ بھی بڑی حکومتوں کے زیر نگیں ہیں۔ان کے بجٹ ، ان کے قرضے جو وہ دوسروں کو دیتے ہیں، اُن کی مدد جو وہ غریب ملکوں کو دیتے ہیں، یا مدد کے بجٹ جو غریب ملکوں کے لئے مختص کئے ہوتے ہیں اُس کی ڈور بھی غیر کے ہاتھ میں ہے۔خوف خدا نہ ہونے کی وجہ سے، خدا کے بجائے بندوں سے ڈرنے کی وجہ سے، نااہلی اور جہالت کی وجہ سے اور اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے نہ ہی دولت کا صحیح استعمال اپنے ملکوں میں انڈسٹری کو ڈویلپ ( Develop) کرنے میں ہوا ہے، نہ زراعت کی ترقی میں ہوا ہے۔حالانکہ مسلمان ممالک کی دولت مشتر کہ مختلف ملکوں کے مختلف موسمی حالات کی وجہ سے مختلف النوع فصلیں پیدا کرنے کے قابل ہے۔مسلمان ملک مختلف قدرتی وسائل کی دولت اور افرادی قوت سے اور زرخیز ذہن سے دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر سکتے ہیں۔لیکن کیونکہ مفادات اور ترجیحات مختلف ہیں، اس لئے یہ سب کچھ نہیں ہو رہا۔آخر کیوں مسلمان ملکوں کے سائنسدان اور موجد اپنے زرخیز ذہن کی قدر ترقی یافتہ ممالک میں جا کر کرواتے ہیں۔اس لئے کہ ان کی قدر اپنے ملکوں میں اُس حد تک نہیں ہے۔اُن کو استعمال نہیں کیا جاتا۔اُن کو سہولتیں نہیں دی جاتیں۔جب اُن کے قدم آگے بڑھنے لگتے ہیں تو سر برا ہوں یا افسر شاہی کے ذاتی مفادات اُن کے قدم روک دیتے ہیں۔“ حقیقی تقومی کی راہیں تلاش کریں حضور انور نے دونوں اطراف یعنی حاکم ومحکوم کو عمومی نصیحت کے طور پر فرمایا: وو یہ یہ سب کچھ گزشتہ چند ہفتوں میں مصر، تیونس یا لیبیا وغیرہ دوسرے ملکوں میں ہوا یا ہو رہا ہے۔یہ سب عالم اسلام کی بدنامی کا باعث ہے۔پس اس وقت اسلام کی ساکھ قائم کرنے کے لئے ، ملکوں میں امن پیدا کرنے کے لئے ، عوام الناس اور ارباب حکومت واقتدار میں امن کی فضا پیدا کرنے کے لئے تقویٰ کی ضرورت ہے جس کی طرف کوئی بھی توجہ دینے کو تیار نہیں۔توجہ کی صرف ایک صورت ہے کہ تو بہ اور استغفار کرتے ہوئے ہر فریق خدا تعالیٰ کے آگے جھکے۔تقومی کے راستے کی تلاش کرے۔۔۔اس فساد کو دور کرنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ راستہ ہے اس زمانے میں آپ کے مسیح و مہدی کو قبول کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچانا۔جب