مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 565
537 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم خزانے سے بھرے ہوئے ہیں۔کسی نے سوئس بینکوں میں ملک کی دولت کو ذاتی حساب میں رکھا ہوا ہے اور کسی نے غیر ممالک میں بے شمار، لا تعداد جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں اور ملک کے عوام روٹی کے لئے ترستے ہیں لیکن سربراہ جو ہیں، لیڈر جو ہیں وہ اپنے محلوں کی سجاوٹوں اور ذاتی استعمال کے لئے قوم کے پیسے سے لاکھوں پاؤنڈ کی شاپنگ کر لیتے ہیں۔مسلمان سر برا ہوں نے جن کو ایک رہنما کتاب، شریعت اور سنت ملی جو اپنی اصلی حالت میں آج تک زندہ و جاوید ہے باوجود اس قدر رہنمائی کے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی دھجیاں اڑائی ہیں۔“ پھر فرمایا: کہاں تو مومن کو یہ حکم ہے کہ مومن ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو دوسرے کو تکلیف ہوتی ہے۔قرآنِ کریم بھی یہ فرماتا ہے کہ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ (الحجرات: 11) کہ مومن تو بھائی بھائی ہیں۔لیکن بعض ملکوں میں مثلاً مصر سے بھی اور دوسرے ملکوں سے بھی یہ خبریں آئی ہیں کہ حکومت نے قانونی اختیار کے تحت عوام کے خلاف جو کارروائی کی ہے وہ تو کی ہے لیکن اسی پر بس نہیں بلکہ عوام کو بھی آپس میں لڑایا گیا ہے۔“ پھر فرمایا: اگر سیاستدان ایماندار ہوں ، سربراہان مملکت اپنے عوام کی خیر خواہی نیک نیتی سے چاہتے ہوں، اُن کے حقوق کا تحفظ کریں تو نہ بھی بے چینی پھیلے، نہ ہی شدت پسند تنظیموں کو اُبھرنے کا موقع ملے، نہ بیرونی طاقتیں غلط رنگ میں اپنے مفاد حاصل کر سکیں۔بہر حال مختصر یہ کہ جو کچھ ہو رہا ہے، یہ جو ظلم ہر جگہ نظر آ رہے ہیں دنیا کو تباہی کی طرف لے جاتے نظر آ رہے ہیں۔اگر حقیقی تقویٰ پیدا نہ ہوا، انصاف قائم نہ ہوا تو آج نہیں تو کل یہ تباہی اور جنگ دنیا کو لپیٹ میں لے لے گی۔اور بعید نہیں کہ اس کے ذمہ دار یا وجہ بعض مسلمان ممالک ہی بن جائیں۔“ اس خرابی کا منطقی رو عمل حضور انور نے مفصل طور پر اس خرابی کا ذکر کیا جو مختلف عرب اور اسلامی ممالک میں حکمرانوں کا شیوہ بن گیا ہے چنانچہ اس کا رد عمل تو ظاہر ہونا تھا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضور