مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 561 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 561

533 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم تھا۔اور اس کے احتجاج پر اسے تھپڑ مارا گیا۔جب وہ تھانے میں رپورٹ لکھوانے گیا تو اس کی کی کوئی شنوائی نہ ہوئی۔تنگ آ کر اس نے 17 دسمبر 2010 ء کو سیدی بوزید کے ضلعی دفتر کے سامنے خودسوزی کر لی۔اسکے اگلے ہی دن 18 دسمبر 2010ء کو ہزار ہا تیونسی باشندوں نے اس افسوسناک حادثے اور ملک میں عدالتی نظام کے فقدان اور بے روزگاری کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جن میں اس وقت مزید شدت آگئی جب 4 جنوری 2011ء کو خودسوزی کرنے والے اس نوجوان کی 26 سال کی عمر میں وفات ہو گئی۔اور بالآخر 14 جنوری 2011ء کو صدر تیونس زین العابدین بن علی کو 23 سال حکومت کرنے کے بعد اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔جس کے بعد 25 جنوری 2011ء کو یہ مظاہرے مصر کی سرزمین میں بھی پھیل گئے۔اور 11 فروری 2011ء کو مصری صدر حسنی مبارک کو اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا۔اسی دن یعنی 11 فروری 2011 ء کو ہی یمن میں حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔پھر 14 فروری 2011ء کو مظاہروں کا یہ سلسلہ بحرین تک جا پہنچا۔جبکہ 15 فروری 2011ء کو لیبیا میں ان مظاہروں کی رو چلی اور 15 مارچ 2011ء کو یہ فضا شام کے گلی کوچوں میں بھی پھیلنے لگی۔اسی طرح دیگر عرب ممالک تک بھی کسی نہ کسی طرح اس آگ کی تپش ضرور پہنچی جس کا آغاز محمد البوعزیزی کی خودسوزی سے ہوا۔دستور عمل اور گلدستہ نصیحت بلا دعر بیہ میں لگی اس آگ پر جہاں اہل غرب نے تیل کا کام کیا وہاں خود ان ممالک کے باشندوں اور دیگر مسلمان ممالک نے بھی کلمہ حق کہنے کی بجائے مختلف سیاسی بیانات اور مفاد پرستی کے لبادے میں ملبوس آراء کو ہی اپنا موقف قرار دیا۔ایسی حالت میں صرف ایک ایسی آواز تھی جو محض خدا کی خاطر نہایت مخلصانہ نصیحت پر مشتمل تھی، جو صرف حاکم کو ہی نہیں سمجھا رہی تھی بلکہ محکوم کو بھی درست راہ دکھا رہی تھی۔یہ آواز حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تھی۔آپ نے 25 فروری 2011ء کو تمام صورتحال کے تجزئیے اور مختلف مشوروں اور راہنمائی پر مشتمل ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جو عربوں کے لئے خصوصا اور تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے عموما ایک دستور عمل اور گلدستہ نصیحت کی حیثیت رکھتا ہے۔ذیل میں مختلف