مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 560 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 560

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 532 ہمیشہ خبر گیری کے اس فرض کو کماحقہ ادا کیا۔خلیج کے بحران پر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس فرض کو ادا کرتے ہوئے متعد د خطبات ارشاد فرمائے جن کے آخر پر عرب حکومتوں کے بارہ میں فرمایا: اگر وہ ان عاجزانہ غریبانہ نصیحتوں پر عمل کریں گے تو بلاشبہ کامیاب اور کامران ہوں گے، اور دنیا میں بھی سرفراز ہوں گے اور آخرت میں بھی سرفراز ہوں گے۔لیکن اگر خدانخواستہ انہوں نے اپنے عارضی مفادات کی غلامی میں اسلام کے مفادات کو پرے پھینک دیا اور اسلامی تعلیم کی پرواہ نہ کی تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو دنیا اور خدا کے غضب سے بچا نہیں سکے گی۔“ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس نصیحت پر کسی عرب حکومت نے کان نہ دھرے اور پھر اس کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی وہ حقیقت میں حضور انور رحمہ اللہ کے مذکورہ کلمات کا واضح عکس لئے خلیفہ ہوئے تھی۔حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی اپنی خلافت کے آغاز سے ہی متعدد بار کئی امور میں عربوں کی خبر گیری کا فرض ادا کیا لیکن جب عرب ممالک میں مظاہرات اور حکومت کے خلاف بعض عوامی تحریکوں سے امن و امان کی صورتحال دگر گوں ہوئی تو جس تفصیل کے ساتھ حضور انور نے اس حالت کا تجزیہ اور اس کے حل کے لئے مخلصانہ مشورے عطا فرمائے ہیں وہ صرف خلافت کا ہی خاصہ ہے۔ان مشوروں اور نصائح کے مفصل بیان سے قبل کسی قدر اختصار کے ساتھ ان عوامی مظاہروں کی ابتدا کے بارہ میں جاننا ضروری ہے۔انقلابی تحریکات کا نقطہ آغاز مختلف عرب حکومتوں کے خلاف ان مظاہروں ، توڑ پھوڑ اور شور و غوغا۔جسے انقلابی تحریکات کا نام دیا گیا۔کی ابتدا تیونس سے ہوئی۔اور اس آگ کو بھڑ کانے والا وہ پہلا شعلہ ”محمد البوعزیزی نامی ایک شخص کی خود کشی ٹھہرا۔یہ شخص یو نیورسٹی کا فارغ التحصیل تھا لیکن کوئی کام نہ ملنے کی وجہ سے بالآخر ریڑھی لگانے پر مجبور ہو گیا۔ایک دن پولیس کی طرف سے اس کے رزق کا واحد ذریعہ یہ ریڑھی بھی ضبط کر لی گئی کیونکہ اس کے پاس ریڑھی لگانے کی اجازت یا لائسنس نہ