مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 515 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 515

487 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم مسلمان ہمیں کیا سمجھتے ہیں یا کیا کہتے ہیں اس سے آپ لوگوں کو کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے یہ ہمارا مسلمانوں کا داخلی معاملہ ہے۔ہمارے اختلافات کے باوجود ہمارا قرآن ایک ہے اس کی آیات مسلم ہیں۔آپ چاہیں تو میں آپ کے عیسائی فرقوں کا اختلاف بیان کرسکتا ہوں جو اس حد تک پہنچا ہوا ہے کہ آپ اپنی مقدس کتاب کے بارہ میں بھی اختلاف رکھتے ہیں بعض کے نزدیک اس کی کتابیں کم بعض کے نزدیک زیادہ ہیں۔کم از کم ہم میں یہ اختلاف تو نہیں ہے۔۔عیسائی اعتراض: تمہارے مسیح موعود تو حد درجہ کے بیمار اور نہ جانے کون کونسی بیماریوں میں مبتلا تھے، وہ ہمارے مسیح ناصری کی طرح کیسے ہو سکتے ہیں جو لوگوں کو بیماریوں سے شفا دیتے تھے۔جواب: انجیل میں ہے کہ تم عیب جوئی نہ کرو تا کہ تمہاری عیب جوئی نہ کی جائے کیونکہ جس طرح تم عیب جوئی کرو گے اسی طرح تمہاری عیب جوئی کی جائے گی۔ނ صلیب پر لٹکائے جانے سے قبل یسوع نہایت حزین اور نہایت غم والم کی کیفیت گزر رہا تھا اور اپنے حواریوں سے کہتا تھا کہ میرے ساتھ رہو، اب آپ ہی بتائیں کہ جوشخص خود اپنے غم و حزن دور نہیں کر سکتا اس کے بارہ میں یہ کہنا کیسے جائز ٹھہرتا ہے کہ وہ دنیا کو غموں سے اور آلام سے نجات دینے آیا ہے۔پھر آپ کی کتاب مقدس حضرت ایوب علیہ السلام کو ایسے رنگ میں پیش کرتی ہے کہ وہ سر سے لے کر پاؤں تک امراض میں مبتلا تھے اس پر آپ کو کوئی اعتراض نہیں۔پھر جسمانی امراض کے علاوہ مسیح کے نسب نامہ میں ایسے اشخاص موجود ہیں جو بائبل کے مطابق نہایت گری ہوئی روحانی بیماریوں میں مبتلا تھے۔اس پر بھی آپ کو کوئی اعتراض نہیں۔اس جواب کے بعد انہوں نے مسیح کی صلیب پر موت یا نجات کے بارہ میں بات کی اور واضح طور پر دفاعی حکمت عملی اختیار کی۔پیلاطوس کی بیوی کا خواب دوسرے پروگرام کے آخر میں انہوں نے اپنی طرف سے ایک ایسا نکتہ پیش کیا جو ان کے خیال میں سب سے مضبوط تھا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” مسیح ہندوستان