مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 514
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 486 شریف صاحب نے بعض بہت اچھے جواب دیئے لیکن شریف صاحب کی آواز پورے پروگرام میں تاخیر سے ٹیلی کاسٹ ہوتی تھی جس کی بناء پر وہ جہاں چاہتے تھے اسے کاٹ دیتے تھے اور جواب مکمل ہونے سے قبل بولنا شروع کر دیتے تھے۔لہذا اگلے پروگرام میں شرکت کے لئے بعض شروط لکھ کر ارسال کی گئیں جن کی بنا پر مکرم محمد شریف صاحب نے حیفا سے اور مکرم ہانی طاہر صاحب نے لندن سے بذریعہ فون اس پروگرام میں شرکت کی اور مختلف سوالات کے جوابات دیئے۔یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعض سوالات اور ان کے جوابات نقل کر دیئے جائیں۔میزبان : اگر آپ کے نزدیک مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود ہیں تو ہمارے ناظرین کو بتائیں کہ کس چیز میں وہ مسیح ناصری کے مشابہہ ہیں۔خصوصا اس لئے بھی یہ سوال اہم ہے کیونکہ مسیح نے تو جسمانی طور پر دوبارہ آنا ہے۔شریف صاحب: یہ مسئلہ تو مسیح نے خود حل کر دیا تھا جب یہودیوں نے اس پر اعتراض کیا کہ تو اس لئے سچا نہیں ہے کیونکہ مسیح کی آمد سے قبل تو ایلیا نے آسمان سے اتر نا تھا جو ابھی اترا نہیں پھر کیسے مان لیں کہ مسیح ایلیا سے پہلے آ گیا ہے۔مسیح علیہ السلام نے کہا کہ آنے والا ایلیا یہ یوحنا معمدان ہے چاہو تو مانو چاہو تو نہ مانو۔یوں مسیح نے خود یہ مسئلہ حل کر دیا کہ کسی کے آسمان سے آنے سے مراد اس کے مشابہ شخص کا اسی دنیا میں پیدا ہونا ہے۔سوال: اگر مرزا صاحب مسیح موعود ہیں تو کیا مسیح ناصری کی طرح معجزات لے کر آئے؟ انکے پاس تو کوئی معجزہ نہیں۔شریف صاحب: وہ دین مردہ دین ہے جس میں معجزات نہیں۔ہمیں صرف پرانے زمانے میں ہی معجزات نہیں دیئے گئے بلکہ ہم آج بھی ان کو دیکھ رہے ہیں۔لیکن اگر مسیح نے معجزات اتنے دکھائے تھے تو یہود ایمان کیوں نہ لائے۔پھر مسیح نے تو اس مسئلہ کا بھی حل دے دیا کہ معجزہ کون طلب کرتا ہے اور اس پر کس کی نظر ہوتی ہے۔مسیح کہتا ہے کہ اس زمانے کے شریر اور فاسق لوگ معجزہ طلب کرتے ہیں۔دوسرے پروگرام میں ہانی طاہر صاحب نے بھی شرکت کی اور یہ پروگرام ایک مناظرے کی شکل اختیار کر گیا۔انہوں نے پچھلے پروگرام پر اپنے تبصرہ میں کہا: