مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 510
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 482 بات یہ ہے کہ ان مسلمانوں کو علم ہی نہیں کہ جماعت احمدیہ کی حقیقت کیا ہے؟ اس حقیقت کا بیان ہمارے اس پروگرام میں ہوگا۔تبصره ان کے بیان کے مطابق ایک تو وہ لوگ ہیں جن کو نہ اسلام کے دفاع کی فکر ہے نہ ناموس رسالت پر لگے اعتراضات کا جواب دینے کی سکت ہے۔ان کو عیسائی بھی سچے مسلمان تسلیم کرتے ہیں۔دوسری طرف جماعت احمد یہ ہے جو انہی کے بقول واحد جماعت ہے جس نے عیسائی حملہ کا جواب دیا اور اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا رڈ کیا۔ان کو بعض مسلمان علماء اور عیسائی دونوں اسلام سے خارج خیال کرتے ہیں۔لیکن لوگ کیوں خوش ہیں ؟ کیونکہ انہیں پتہ چل گیا ہے کہ اسلام کے اصل دفاع کرنے والے کون ہیں، یعنی وہی جن کی بات کا عیسائیت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔پھر یہ منصف مزاج مسلمان ان دفاع کرنے والوں کو مسلمان نہ سمجھیں تو اور کیا سمجھیں؟ اور یہی غم عیسائیوں کو ستائے جا رہا ہے کہ اگر جماعت احمدیہ کو بھی مسلمان سمجھ لیا گیا تو ان کا عیسائیت پر غلبہ، اسلام کا غلبہ متصور ہوگا۔لہذا بہتر یہی ہے کہ مسلمان علماء کے ساتھ مل کر اس کو خارج از اسلام ثابت کیا جائے۔ایک طرف کہتے ہیں کہ یہ جماعت اس قدر وقت اور توجہ کی مستحق نہیں کہ اس کے متعلق کوئی پروگرام کیا جائے لیکن دو منٹ بعد ہی کہتے ہیں کہ تمام مسلمانوں میں سے سوائے احمدیت کے سی نے ہمارے اعتراضات کا جواب نہیں دیا۔ایسی صورتحال میں آپ ہی بتائیں کہ آپ پر کون بھاری ہے؟ اعترافات پروگرام کے میزبان نے شروع میں کہا تھا کہ مسلمانوں کو علم ہی نہیں کہ جماعت احمدیہ مسلمان جماعت نہیں ہے، لیکن محض چند منٹ کے بعد ہی اسی میزبان نے ایک اور بات کہہ دی جس کا نتیجہ تو انہوں نے کچھ اور ہی نکالا تا ہم اس میں سچ بھی زبان پر آ گیا۔حضرت مسیح موعود