مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 500
مصالح العرب۔جلد دوم دوسرے حصہ کا جواب 472 اب اس اعتراض کے دوسرے حصہ کو لیتے ہیں جو اس نام کی تضحیک اور مذاق اڑانے سے متعلق ہے۔اس کے جواب سے قبل صرف اتنا عرض ہے کہ جہاں بھی دشمن اعتراض کرتا ہے وہاں دراصل کوئی علمی خزانہ چھپا ہوا ہوتا ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ تحفہ گولڑویہ کی اس عبارت کا سیاق کیا ہے اور یہاں کونسا خزانہ مخفی ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: - ”یہ نہیں کہہ سکتے کہ بغیر باپ پیدا ہونا ایک ایسا امر فوق العادت ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام سے خصوصیت رکھتا ہے۔اگر یہ امر فوق العادت ہوتا اور حضرت عیسی علیہ السلام سے ہی مخصوص ہوتا تو خدا تعالیٰ قرآن شریف میں اس کی نظیر جو اس سے بڑھ کر تھی کیوں پیش کرتا اور کیوں فرماتا إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ( آل عمران : 60)۔یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی مثال خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسی ہے جیسے آدم کی مثال کہ خدا نے اس کو مٹی سے جو تمام انسانوں کی ماں ہے پیدا کیا۔اور اس کو کہا کہ ہو جا تو وہ ہو گیا۔یعنی جیتا جاگتا ہو گیا۔اب ظاہر ہے کہ کسی امر کی نظیر پیدا ہونے سے وہ امر بے نظیر نہیں کہلا سکتا۔اور جس شخص کے کسی عارضہ ذاتی کی کوئی نظیر مل جائے تو پھر وہ شخص نہیں کہہ سکتا کہ یہ صفت مجھ سے مخصوص ہے۔اس مضمون کے لکھنے کے وقت خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ یکاش خدا کا ہی نام ہے۔یہ ایک نیا الہامی لفظ ہے کہ اب تک میں نے اس کو اس صورت پر قرآن اور حدیث میں نہیں پایا اور نہ کسی لغت کی کتاب میں دیکھا۔اس کے معنے میرے پر یہ کھولے گئے کہ یا لَا شَرِيكَہ اس نام کے الہام سے یہ غرض ہے کہ کوئی انسان کسی ایسی قابل تعریف صفت یا اسم یا کسی فقتل سے مخصوص نہیں ہے جو وہ صفت یا اسم یا فعل کسی دوسرے میں نہیں پایا جاتا۔یہی سر ہے جس کی وجہ سے ہر ایک نبی کی صفات اور معجزات اظلال کے رنگ میں اس کی اُمت کے خاص لوگوں میں ظاہر ہوتی ہیں جو اس کے جوہر سے مناسبت تامہ رکھتے ہیں تا کسی خصوصیت کے دھوکا میں جہلاء امت کے کسی نبی کو لا شریک نہ ٹھیرائیں۔یہ سخت کفر ہے جو کسی نبی کو یلاش کا نام دیا جائے۔کسی نبی کا کوئی معجزہ یا اور کوئی خارق عادت امر ایسا نہیں ہے جس میں ہزار ہا اور لوگ شریک نہ ہوں اسے عقلمندو ذرا سوچو کہ اگر مثلاً حضرت