مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 498
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 470 کا مذاق اڑایا۔اس کے ساتھ انہوں نے شیخی کے طور پر یہ بھی کہہ دیا کہ گولڑویہ اُردو میں ایک حلوے کو کہتے ہیں جو گنے کے رس) سے بنایا جاتا ہے۔(http://www۔youtube۔com/watvh?v=Q8Zk7M3TcRM&feature=related) اسی طرح انہوں نے شاید عرب ناظرین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ انہیں اچھی خاصی اردو آتی ہے حتی کہ اس کے بعض مشکل سے مشکل الفاظ کے معانی بھی ازبر ہیں جیسا کہ گولڑویہ کا لفظ ہے، اس لئے وہ جو کچھ بھی ان کتب سے پیش کریں گے وہ سیاق وسباق سے کٹا نہیں ہوگا اور اس کا وہی معنی ہو گا جو وہ پیش کریں گے، لیکن ان کی مذکورہ وی تشریح سے اُردو زبان کا ایک پرائمری کا طالبعلم بھی سمجھ سکتا ہے کہ اس کتاب کے نام میں ان کے بیان کردہ معنے کا کہیں دور کا بھی تعلق نہیں۔ہاں اگر مولوی صاحب سے حلوے کی ( خواب دیکھتے ہوئے یہ جملہ سرزد ہو گیا ہو تو انہیں معذور سمجھا جاسکتا ہے۔) کاش یہ مولوی صاحب تحفہ گولڑویہ کے اس ٹائٹل پیج کی جسے بار بار ٹی وی پر دکھا رہے تھے پہلی دو تین سطور ہی پڑھ لیتے تو انہیں سمجھ آجاتی کہ گولڑویہ کا کیا مطلب ہے۔ان سطور میں حضور وو علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: یہ رسالہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور ان کے مریدوں اور ہم خیال لوگوں پرا تمام حجت کے لئے محض نصیح اللہ شائع کیا گیا ہے۔یعنی گولڑہ ایک جگہ کا نام ہے اور گولڑوی کیلئے کتاب لکھنے کی مناسبت سے اس کا نام تحفہ گولڑویہ رکھا گیا تھا۔لاش پر اعتراض کا جواب تحفہ گولڑویہ کے حوالے سے ان مولوی صاحب نے ایک اعتراض کو متعدد بار ٹی وی چینل پر ہوا دی اور نہایت درجہ کی بد زبانی کرنے کے بعد یہاں تک کہہ دیا کہ اگر احمدیوں کے نزدیک یہ نام فی الحقیقت اللہ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے تو اپنے چینل پر لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کی بجائے لَا إِلهَ إِلَّا يَلاش لکھ لیں۔آج کل بھی یہ سوال کثرت سے گردش کر رہا ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ذیل میں جواب لکھ دیا جائے۔