مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 489 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 489

461 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم خود بھی تو اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں پھر بھی نہ جانے کیوں جماعت احمدیہ کے ساتھ ساتھ خو دکو بھی جھٹلائے جا رہے ہیں اور دوسروں کو بھی اس جھوٹ کو قبول کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ان کے اس بیان کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ جماعت احمد یہ ہے تو کافر اور مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج، لیکن عیسائیت کے اسلام پر نہایت زہرناک حملہ کے وقت صرف یہی وہ واحد جماعت ہے جس نے دفاع اسلام کا حق ادا کیا جبکہ ایسے وقت میں باوجود عامتہ السلمین کے الحاح اور پکار کے نہ علماء کا کوئی ادارہ سامنے آیا اور نہ ہی کوئی علمی سوسائٹی اور گروہ اس کام کے لئے آگے بڑھا۔افسوس ہے کہ یہ لوگ ابھی تک یہی سمجھتے ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کہہ دیں گے عامتہ المسلمین آنکھیں بند کئے اسے مانتے جائیں گے۔آخر کب تک یہ نام نہاد علماء لوگوں کی عقل و فہم کو پابند سلاسل رکھنے کی کوشش کرتے رہیں گے؟ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے انصاف پسند طبائع اس حقیقت کو جان چکی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب وہ بکثرت قبول حق کی طرف مائل ہو رہی ہیں۔مسلمانوں کی طرف سے مقدمہ بہر حال جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ غیر احمدی مسلمانوں اور عیسائیوں کی جانب سے ایم ٹی اے 3 العربیہ کو بند کرانے کی کوششیں شروع ہو گئیں، اس سلسلہ میں غیر احمدی مسلمانوں کی طرف سے کئی ایک مصری مولویوں نے ہرزہ سرائی اور بیان بازی کا شوق پورا کیا اور بالآخر اشرف عبداللہ نامی ایک مصری نوجوان نے وزیر اطلاعات، شیخ الازہر، اور مفتی مصر کے خلاف عدالت میں یہ کہہ کر کیس دائر کیا کہ ان شخصیات نے ایم ٹی اے 3 العربیہ کو نائل ساٹ پر چلانے کی اجازت دی ہے اور یہ چینل اسلام اور مسلمانوں کے عقیدہ کو بگاڑنے کا مرتکب ہو رہا ہے اور مذکورہ شخصیات نے اس کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کیا۔اس کے کیس کا نمبر 19119 ہے۔یہ خبر اور اس پہ تبصرہ پر مشتمل "عصام عبد الجواد " کا ایک آرٹیکل اخبار روز الیوسف میں شائع ہوا جسے مختلف ویب سائٹس نے نقل کیا ہے۔مذکورہ اخبار کی ویب سائٹ سے ہمیں یہ آرٹیکل نہیں مل سکا تاہم مندرجہ ذیل دو ویب سائٹس پر یہ آج تک موجود ہے۔http://coptsegypt۔akbarmontada۔com/t5-topic۔http:/www۔araldimes۔com/pordisplay۔cf