مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 487 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 487

459 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم عیسائیت کے رڈ میں ان کامیاب پروگرامز پر بہت خوش ہوئے اور شروع میں بعض بڑے بڑے علماء نے بھی اس کام کو سراہا، لیکن جب اسلام کے دفاع کے ان دعویداروں نے دیکھا کہ یہ منصب تو عملی طور پر احمدیت نے اپنے نام کر لیا ہے تو ایسے بڑے بڑے مولوی بھی ہمارا چینل بند کرانے کے لئے سر توڑ کوششیں کرنے لگ گئے۔لیکن چونکہ مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت پر عیسائیت کے خلاف احمدیت کے کامیاب جہاد کی وجہ سے یہ حقیقت آشکار ہو چکی کہ اسلام کا حقیقی دفاع کرنے والی جماعت صرف جماعت احمدیہ ہی ہے، اس لئے ان بڑے بڑے مولویوں نے اپنی اس مخالفانہ مہم کی بنا ایک دفعہ پھر ان فرسوده اعتراضات پر رکھی جوا کثر جماعت کے خلاف دہرائے جاتے ہیں جبکہ ان کا حقیقت کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔لہذا اسی عرصہ میں جہاں عیسائیوں کی طرف سے ہمارا چینل بند کروانے کی کارروائی شروع ہوئی وہاں انٹرنیٹ پر عرب مسلمانوں کی سینکڑوں ویب سائٹس پر ایم ٹی اے 3 العربیہ کو بند کروانے کے اعلانات نشر کئے گئے اور اس کی وجہ یہ کھی گئی کہ یہ جماعت اسلام سے خارج ہے اور انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے وغیرہ وغیرہ۔یہ اعلانات آج تک بیسیوں ویب سائٹس پر موجود ہیں۔مخالفت نے کھاد کا کام کیا ان کے اس اقدام کو بھی اللہ تعالیٰ نے جماعت کی تبلیغ کا ذریعہ بنا دیا کیونکہ انصاف پسند طبیعتوں نے سوچا کہ ایک طرف اسلام کے دفاع کے لئے سوائے اس جماعت کے میدان عمل میں اور کوئی بھی موجود نہیں ہے دوسری طرف بڑے بڑے علماء اس کے کفر کے فتوے دے رہے ہیں اور یہ وہی علماء ہیں جن کے پاس قبل از میں عام مسلمانوں نے جا جا کر کہا تھا کہ عیسائیت کے اسلام مخالف حملے کا جواب دیں لیکن وہ آگے نہ آئے ، لہذا ان منصفین کو سمجھ آگئی کہ حقیقت شاید کچھ اور ہے اور اسی بنا پر بعض لوگوں نے تحقیق شروع کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت عطا فرمائی۔ایم ٹی اے 3 العربیہ کو دیکھنے سے باز رہنے کی ان صداؤں میں ان لوگوں نے کہیں کہیں ان لوگوں نے ہمارے اس چینل کی فریکوینسی بھی درج کر دی گئی تھی۔اسی طرح ہماری ویب سائٹ کا بھی ایڈریس دے دیا تھا۔چنانچہ کئی لوگوں کو اس فریکوینسی اور ویب سائٹ کے ایڈریس کے ذریعہ جماعت کے بارہ میں معلومات حاصل کرنے میں مدد حاصل ہوئی۔بلکہ اُس وقت