مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 486
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 458 میں ہمارے چینل کی نشریات کو دو طرح کی مخالفت کا سامنا تھا۔عیسائیوں کی طرف سے اس مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ ایم ٹی اے 3 العربیہ کی نشریات کے آغاز سے ہی عیسائیت کے رد میں پروگرام نشر کئے گئے جن میں عیسائی علماء اور پادریوں کی پسپائی کے بعد ردعمل کے طور پر انہوں نے سیٹلائٹ کی انتظامیہ اور subcontractor کمپنیوں پر ایم ٹی اے بند کروانے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ عرب ممالک میں کسی چینل کی نشریات کو بند کر وانے کیلئے عیسائی کس طرح دباؤ ڈال سکتے ہیں۔اس کے جواب کے طور پر عرض ہے کہ یہ عیسائی مصر میں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں سے زیادہ کا تعلق آرتھوڈ کس فرقہ سے ہے، بلکہ مصران کا مرکز ہے۔دوسری طرف مسلمانوں کی ایک بڑی علمی دینی درسگاہ جامعتہ الا زہر بھی مصر میں ہی ہے۔اس لئے عیسائیوں اور مسلمانوں کا آپس میں اکثر جھگڑا رہتا تھا جس کی بناء پر مصر میں از دراء الادیان، یعنی تو ہین ادیان کے نام سے ایک قانون بنایا گیا ہے جس کا دائرہ کار است قدر وسیع ہے کہ اس میں دونوں اطراف جب چاہیں کسی چھوٹی سے چھوٹی بات کو معقول وجہ قرار دے کر مذکورہ قانون کے تحت دعوی دائر کر دیتے ہیں۔جب دریدہ دہن عیسائی پادری نے اسلام کے خلاف دل آزارانہ مہم کا آغاز کیا تو خصوصی طور پر مصر کے مسلمانوں نے اسی قانون کے تحت اس کے خلاف آواز اٹھائی کیونکہ وہ آرتھوڈ کس ہے اور مصر میں بطور پادری کام کرتا رہا ہے، لیکن مصر میں آرتھوڈ کس فرقہ کی طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ ایک تو یہ پادری استعفیٰ دے کر ہم سے علیحدہ ہو چکا ہے دوسرا اس کے چینل کی نشریات عربوں کے سیٹیلائیٹ سے نہیں ہو رہی ہیں۔پھر جب احمدیت کی طرف سے اس پادری کے اعتراضات اور عیسائیت کا رڈ پیش کیا جانے لگا جو تمام مسلمانوں کے دل کی آواز بن گیا تو عیسائی اس پر بہت جزبز ہوئے اور چونکہ ایم ٹی اے 3 العربیة کی نشریات عربوں کے سیٹیلائیٹ پر ہو رہی تھیں لہذا انہوں نے مذکورہ قانون اور اس قسم کے دیگر معاہدات کے حوالہ سے اس مسئلہ کو اٹھایا اور کہا کہ اگر عرب اس چینل کے اجراء میں شامل نہیں تو پھر اس چینل کی نشریات کو روکنے کیلئے ہمارا ساتھ کیوں نہیں دیتے۔اور انہوں نے اس سلسلہ میں قانونی کاروائی کی دھمکیاں بھی دینی شروع کر دیں۔دوسری طرف گو کہ عامتہ المسلمین اور بعض منصف مزاج لوگ احمدیت کی طرف۔ނ