مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 484 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 484

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 456 کے پراپیگنڈے کا بھر پور جواب دیا جا رہا ہے۔نیز ان کو اپنی حدود کے اندر رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے اور دوسرں پر حملے کرنے سے روک دیا گیا ہے۔چینل دل میں گھر کر گیا مکرم صابر خمیلہ صاحب الجزائر سے لکھتے ہیں: میرے اس خط میں محبت اور ناراضگی دونوں کا پیغام ہے۔محبت کا ان عظیم الشان کوششوں کی وجہ سے جو آپ لوگ اسلام کی صحیح تعلیمات پھیلانے کے سلسلہ میں کر رہے ہیں۔آپ کی باتیں بہت منطقی اور عقل و فہم کے بالکل قریب ہوتی ہیں۔اسی وجہ سے اب میں انہیں ماننے لگ گیا ہوں۔گواس چینل میں سوائے چند افراد جیسے مکرم ہانی طاہر صاحب، مکرم مصطفی ثابت صاحب، مکرم امیر صاحب اور چند دوستوں کے لوگ نظر نہیں آرہے ہیں پھر بھی یہ چینل یہاں الجزائر کے نو جوانوں کے دلوں میں گھر کر گیا ہے اور وہ اس سے کافی متاثر ہیں۔اس مختصر عرصہ میں آپ اپنی اسلامی خدمات کی وجہ سے شکریہ کے مستحق ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر اسلامی جماعتوں سے ہمیں سوائے تکفیر اور بدعت کے اور کچھ نہیں ملا۔انہوں نے تو اسلام اور عقل و منطق کے برخلاف باتیں پھیلائی ہیں۔نہ تو انہوں نے اسلام پھیلایا نہ اسلام پر عمل کرنے کی کسی کو تلقین کی بلکہ الٹا انہوں نے ہمارے اندر اسلام کے خلاف نفرت پیدا کی ہے اور خونریزی کو جہاد کا نام دے کر ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔آپ سے ناراضگی اس وجہ سے ہے کہ آپ نے بہت دیر کی ہے۔اتنے سالوں تک آپ کہاں تھے؟ اور ہمیں آپ کا علم کیوں نہیں ہوا ؟ اسی دیر کی وجہ سے آج ہمارے دین کے نام کے ساتھ ایسے مفاہیم لگا دیئے گئے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور آج ہم پر دہشتگردی کی تہمتیں لگائی جارہی ہیں۔مکرم صابر خمیلہ صاحب آف الجزائر اپنے ایک اور خط میں لکھتے ہیں : آپ میری اس خوشی کا اندازہ نہیں کر سکتے جو مجھے MTA کے پروگرامز اور ان کوششوں کو دیکھ کر حاصل ہوتی ہے جو آپ اسلام اور امت مسلمہ کے لئے اور ان غلط اور فرسودہ مفاہیم کو بدلنے کے لئے کر رہے ہیں جو اسلام کی بجائے خرافات کے زیادہ قریب تھے۔براہ کرم مجھے بھی اپنی جماعت میں شمار کر لیں۔