مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 477
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 451 چاہئے۔اللہ کرے کہ ہم ان دعاؤں کی طرف توجہ دیتے ہوئے پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہوتے ہوئے اس کا فضل مانگتے ہوئے ان ترقیات کو جلد سے جلد حاصل کر نے والے بن جائیں۔آخر پر حضور انور نے جماعت کے عربی پروگراموں سے متعلق اپنے نیک تاثرات کا اظہار کرنے والے عرب بھائیوں اور بہنوں کا ذکر کرتے ہوئے جن میں سے کچھ کے تاثرات آج ی کی تقریب میں پیش کئے گئے تھے فرمایا کہ ان سے میں کہتا ہوں کہ تمہارے ان جذبات کا اظہار بجا، ہم اس پر شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن صرف جذبات کا اظہار کر دینا کافی نہیں ہے۔آج اسلام کی تائید کے لئے اس چنیدہ کی مدد کے لئے آگے آؤ اور اس کی جماعت میں شامل ہو جاؤ اور ایک ہاتھ پر اکٹھے ہو کر اسلام کا دفاع کرو اور اسلام کی فتوحات میں اس کے سپاہی بن جاؤ۔یہی ایک جری اللہ ہے، یہی ایک سپہ سالار ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں بھیجا ہے۔اس لئے اب تمام عرب دنیا کا فرض بنتا ہے جو اولین طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کے مخاطب تھے کہ جب میرا مسیح و مہدی آئے تو اس کے پاس جانا اور اس کو میر اسلام کہنا۔اب تمہارا یہ فرض ہے کہ اس فرض کو نبھاؤ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات سے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے والے بن جاؤ اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے بن جاؤ۔اللہ کرے کہ میرا یہ پیغام بھی آپ کے دلوں کو نرم کرنے والا بن جائے۔حضور انور نے فرمایا کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد جو ہمارے پر فرض بنتا ہے اور جماعت کا جو ہم پر حق بنتا ہے اس کو صحیح طور پر ادا کرنے والے ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے والے بنیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہماری تائید و نصرت فرما تار ہے۔اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اجتماعی دعا کروائی۔دعا کے بعد تمام حاضرین کی خدمت میں عربی طرز پر تیار کردہ کھانا پیش کیا گیا جس کے ساتھ یہ نہایت پر مسرت، مبارک اور ایمان افروز تقریب اختتام کو پہنچی۔( الفضل انٹر نیشنل 25 مئی 2007)