مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 469 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 469

443 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم ہمیں اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند، آپ کے عاشق صادق اور کی خادم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے غلاموں اور خادموں میں شامل ہونے کی سعادت بخشی ہے۔انہوں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عربوں سے شدید محبت رکھتے تھے۔آپ نے نہ صرف عربوں سے محبت کی بلکہ ان کی زبان اور ان کی زمین سے بھی محبت کی۔اور یہ سب کچھ آپ علیہ السلام کی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا پر تو تھا۔آپ نے عربی زبان سے محبت کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا معیار قرار دیا۔آپ علیہ السلام کی خواہش تھی کہ آپ عرب ممالک اور اس سرزمین کا دیدار کریں اور ان گلیوں میں جائیں جہاں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک پڑے، اور یہ کہ اس خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنائیں۔عربوں سے آپ نے اس حد تک محبت کی کہ اللہ تعالیٰ نے عربوں کی اصلاح اور انہیں سیدھا راستہ دکھانے کی مہم آپ کے سپرد کرنے کی بشارت دی، جس کی بنا پر آپ نے عربوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ مجھے اس اصلاح کی مہم میں کامیاب وکامران پائیں گے۔مکرم شریف عودہ صاحب نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عربوں کی طرف اپنے خطوط اور کتب بھیجنے کے بارہ میں فکرمند تھے کیونکہ آپ نے سنا تھا کہ عرب ممالک کے حکمرانوں کے کارندے راستہ میں اس قسم کا مواد ضبط کر لیا کرتے ہیں۔لہذا آپ علیہ السلام عربوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔”اے عزیزو! مجھے بتاؤ کہ میں کیا کروں اور کونسی تدبیر استعمال کروں تا تم تک۔پہنچوں۔میں اپنی جگہ اس مقصد کے حصول کے لئے کوشاں ہوں اور اہل تجر بہ لوگوں سے مشورہ کر رہا ہوں۔الحمد للہ کہ حضور علیہ السلام کی یہ خواہش آج پوری ہو گئی ہے۔اے ہمارے پیارے مسیح موعود ! آپ کا پیغام پہنچ گیا۔اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی عاشق آپ کا پیغام بصد شوق اپنی منزل پا گیا۔آپ علیہ السلام اپنے عربی شعر میں فرماتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے: ہمارے پیغام کا نامہ بر اپنی چونچ میں امن وسلامتی کے تحفے لئے شوق کے پروں پر سوار خدا کے پیارے، تمام رسولوں کے سردار اور تمام خلائق سے افضل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وطن کی طرف محو پرواز ہے۔