مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 19 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 19

مصالح العرب۔جلد دوم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب 15 آپ ماریشس میں پیدا ہوئے، قادیان میں تعلیم حاصل کی اور 1944ء میں زندگی وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔آپ فلسطین میں 18 فروری 1968 ء میں تشریف لائے اور 26 فروری 1972ء تک یہاں قیام فرمایا۔آپ نے رسالہ البشری کی ادارت کے علاوہ اہم کام یہ کیا کہ مرکز کی طرز پر مختلف دینی اجلاسات اور جلسہ جات کے قیام کا رواج ڈالا، چنانچہ یوم مسیح موعود ، یوم مصلح موعود، اور یوم خلافت وغیرہ کا باقاعدہ انعقاد ہونا شروع ہوا۔اسی طرح ان مواقع پر رسالہ البشری کے خاص شمارے بھی شائع کئے گئے۔آپ نے بکثرت فلسطین کے مختلف علاقوں کے دورے کئے اور تبلیغ کے کام میں تیزی پیدا کر دی۔مکرم مولا نا محمد منور صاحب مکرم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب کی واپسی کے بعد مکرم مولا نا محمد منور صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ 8 فروری 1972ء کو فلسطین تشریف لائے اور تقریباً سو سال قیام کے بعد 21 / مئی 1973ء کو یہاں سے روانہ ہو گئے۔اس عرصہ میں آپ نے رسالہ البشریٰ کی ادارت کے علاوہ دینی مجالس اور درس و تدریس پر زیادہ زور دیا۔مکرم مولانا غلام باری سیف صاحب آپ 20 /اکتوبر 1966ء کو لبنان تشریف لائے اور عربی زبان کے علاوہ حدیث کے میدان میں اکتساب علم کیا۔جس کے بعد 19 / جولائی 1967ء کو آپ واپس ربوہ تشریف لے گئے۔لبنان میں قیام کے دوران آپ شام بھی تشریف لے گئے جہاں مکرم منیر الحصنی صاحب اور دیگر افراد جماعت سے ملاقات کا بھی موقع ملا۔ازاں بعد آپ نے جامعہ احمدیہ میں حدیث شریف کے استاد کی حیثیت سے لمبا عرصہ تدریس کے فرائض سرانجام دیئے۔