مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 454 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 454

مصالح العرب۔جلد دوم 430 و روحانی کیفیت سے دوچار ہو گئے، ناظرین کی اکثریت فرط جذبات سے اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکی، کئی احمدی احباب نے لکھا کہ ہم احمدی تو تھے لیکن خلافت کے موضوع پر ان کی پروگراموں نے ہمیں علمی طور پر منصب خلافت کی عظمت سے روشناس کرایا لیکن اس کا حقیقی اور روحانی ادراک حضور انور کی اس پروگرام میں شرکت کے وقت ہوا جسے ہم نے اپنے قلب ونظر و دماغ و احساسات میں محسوس کیا۔یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر عربوں کی طرف سے مرسلہ احساسات اور جذبات میں سے کچھ پیش کر دیئے جائیں۔عمومی با برکت تا شیر مکرم محمد شریف عودہ صاحب نے اس پروگرام کے بعد حضور انور کی خدمت میں لکھا: سیدی! سٹوڈیو میں حضور انور کی تشریف آوری کا ہم پر بھی اور دیگر تمام لوگوں پر بہت ہی بابرکت اور غیر معمولی اثر تھا۔لوگ تو حضور کی اچانک تشریف آوری کو دیکھ کر گویا خوشی سے بے خود ہو گئے۔مختلف عرب ممالک سے تمام فون کرنے والوں نے یہی کہا کہ شدت جذبات سے ہمارے آنسو نکل آئے۔عجیب بات ہے کہ کئی غیر احمدی جن کا جماعت کے ساتھ رابطہ ہے وہ بھی شدت جذبات کی وجہ سے روئے بغیر نہ رہ سکے۔مثلا : اردن کے ایک ہسپتال میں امراض چشم کے ڈاکٹر وائل بلعاوی نے کہا کہ میں اس مسحور کن منظر کو دیکھ کر شدت جذبات سے مغلوب ہو گیا۔انہوں نے ابھی بیعت تو نہیں کی لیکن اس منظر سے بہت متاثر ہوئے۔( بعد میں بفضلہ تعالیٰ انہوں نے بیعت کر لی اور الحمد للہ اب یہ کی جماعت احمد یہ اردن کے مخلص کارکن ہیں) ایک خاتون ( جنہوں نے ابھی تھوڑا عرصہ قبل بیعت کی ہے) نے کہا کہ اس کے والد صاحب احمدی نہیں ہیں لیکن وہ بھی حضور انور کی پروگرام میں تشریف آوری کو دیکھ کر بے اختیار رونے لگ گئے۔کہا بیر کی ایک غیر احمدی عورت نے کہا: حضور کے اسٹوڈیو میں تشریف لانے پر میری حیرت کی انتہا نہ رہی اور میں بے حد متاثر