مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 455
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 431 ہوئی۔میں نے دل میں کہا کہ اگر میری یہ حالت ہے تو ان کی حالت کیا ہو گی جو اس وقت حضور انور کے ساتھ سٹوڈیو میں بیٹھے ہیں۔عجیب بات ہے کہ جتنے لوگوں نے بھی مجھ سے بات کی ہے یہی کہا ہے کہ جب حضور انور کی آمد پر شرکاء پروگرام کھڑے ہوئے تو ہم بھی ساتھ کھڑے ہو گئے۔اس واقعہ نے ہمارے نفوس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔یہ تو غیر احمدیوں کے تاثرات تھے جبکہ احمدی احباب میں سے جس شخص سے بھی فون پر بات ہوئی سب نے یہی کہا کہ وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔بہتوں نے حضور انور کی تشریف آوری کے وقت فون کر کے حضور سے بات کر نیکی کوشش بھی کی لیکن ان کی فون کال کی باری نہ آئی۔میری والدہ کہ رہی تھیں کہ یوں لگتا تھا کہ گویا حضور ہمارے گھر میں تشریف لے آئے ہیں۔مجلس صحابہ کا احساس ایک غیر از جماعت دوست مکرم عماد عبدالبدیع صاحب آف مصر نے لکھا: میں ٹی وی کے آگے بہت کم بیٹھتا تھا لیکن بیماری کی وجہ سے ایک دن میں بیٹھا مختلف چینل بدل رہا تھا کہ اچانک آپ کا یہ چینل مل گیا۔مجھے ایک خزانہ مل گیا۔اگر میری بیماری نہ ہوتی تو شاید اس خزانہ سے محروم رہتا۔اس پر میں خدا تعالی کا شکر گزار ہوں کیونکہ میرے ذہن میں مذہب کے بارہ میں بہت سے سوالات پیدا ہوتے تھے جن کا جواب مجھے کبھی بھی نہ ملتا تھا اور کوئی میری تسلی نہ کراتا تھا۔خدا شاہد ہے کہ یہ چینل اور اس کو چلانے والے نیک لوگ میرے درد کی دوا بن گئے حتی کہ میں سخت بیماری کی ساری تکلیفیں بھول کر خلیفۃ المہدی کی محبت سے مجبور ہو کر انٹرنیٹ کیفے گیا ہوں تا کہ یہ خط بھیجوں۔آپ کا چینل اس دنیا میں امید کی ایک واحد کرن ہے۔آپ کے پاس محمدی فیوض کا خزانہ ہے۔جب حضور انور الْحِوَارُ الْمُبَاشَر میں تشریف لائے تو اس دوست نے لکھا: اس بار جب حضرت خلیفتہ اسیح سٹوڈیو میں تشریف لائے تو میں اپنے جذبات ضبط نہیں کر سکا اور زار و قطار رونا شروع کر دیا۔مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے