مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 453
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 429 بلکہ یہ حقیقی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں تلے لانے والی بات ہے جس کو آج دنیا کی بھول چکی ہے۔کہنے کو تو ہم مسلمان ہیں لیکن بہت سارے مسلمانوں کے عمل اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جو تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے، جو تعلیم ہمیں قرآن کریم نے دی ، اس پر عمل عملاً نا پید ہے۔اور آج جماعت احمدیہ ہی ہے جو اس علم کو اٹھائے ہوئے ہے۔اگر ہم نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو کل کی آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے والے بنیں۔آمین۔مجھے امید ہے کہ 27 رمئی کو یوم خلافت کے دن میں نے جو تمام احمدیوں سے عہد لیا تھا کہ آپ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے اور خلافت احمد یہ کے قائم رکھنے کے لئے ہر قربانی دینے کیلئے تیار رہیں گے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک تمام دنیا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا نہ لہرائے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ میں سے ہر احمدی جو عرب دنیا میں بستا ہے میرا سلطان نصیر بن کر اس کام میں ہاتھ بٹائے گا۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاننہ۔یہ چند الفاظ میں نے آپ سے کہنے تھے۔اور یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ آج ایک ( Function) کیلئے میں یہاں موجود تھا۔اور یہاں ہمارے بھائی جو اس پروگرام الحوار المباشر میں حصہ لیتے ہیں انکے کہنے پر مجھے خیال آیا کہ آجاؤں۔پہلے تو میرا ارادہ تھا کہ نہیں آؤں گا لیکن پھر آپ کے جذبات کی وجہ سے اور ان کے جذبات کی وجہ سے میرے دل نے مجھے مجبور کیا که ضرور آپ کے اس پروگرام میں شامل ہوں اور چند لمحے اور چند منٹ آپ میں گزاروں۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ خطاب فرموده 8 جون 2008ء) جیسا کہ حضور انور نے خود بیان فرمایا کہ ” پہلے ارادہ تھا نہیں آؤں گا۔اس لئے ناظرین کے لئے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حضور انور کے تشریف لانے سے قبل کسی کو اس بارہ میں کچھ خبر نہ تھی۔اس میں بھی خدائی حکمت نظر آتی ہے کیونکہ اس طرح اچانک حضور انور کو پروگرام میں دیکھ کر شرکائے پروگرام اور دیکھنے والے احمدی اور غیر احمدی ایک عجیب جذباتی کی