مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 452 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 452

428 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم تین دن گزر چکے تھے اور یہ 8 جون 2008ء کا دن تھا جو کہ اس ماہ کے الْحِوَارُ الْمُبَاشَر کا آخری دن تھا۔اس دن حضور انور مسجد بیت الفتوح میں کسی فنکشن کے سلسلہ میں تشریف لائے ہوئے تھے۔اس موقعہ پر مکرم محمد شریف عودہ صاحب نے اپنے بھائی منیر عودہ صاحب کے ذریعہ حضور انور کی خدمت میں دوبارہ درخواست عرض کی جسے قبول فرماتے ہوئے حضور انور اس پروگرام میں تشریف لائے اور تقریبا 16 منٹ تک تشریف فرما ر ہے جس میں عربوں کو خطاب فرمایا اور ایک فون کال بھی سماعت فرمائی۔ذیل میں ہم حضور انور کے اس تاریخی خطاب کا مکمل متن پیش کرتے ہیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا عربوں سے خطاب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔اسے تمام اہالیان عرب ! آپ پر اللہ تعالی کے بے شمار فضل اور انعامات اور احسانات ہوں۔آپ کی تعداد اس وقت گو دنیا کی نظر میں تھوڑی ہے لیکن آپ کے دل اس وقت ایک نور سے بھرے ہوئے ہیں اور مجھے امید ہے کہ یہ تعداد جلدی انشاء اللہ ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں میں بدلنے والی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اس چیز کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ پیغام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لے کر آئے ، اور یہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے ذریعہ سے ملا ہے۔وہ حقیقی اسلام، وہ حقیقی تعلیم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کی ، جس کو لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے، جس کو دنیا بھول بیٹھی تھی ، آج گو بظاہر اہل عرب عربی جاننے والے اس بات کے دعویدار ہیں کہ ہم اس زبان کے بولنے والے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ہے، اور یقیناً ہمیں بھی اس زبان سے بہت پیار ہے کیونکہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے ماننے والوں میں سے ہیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ ایمان اور عرفان عطا فرمایا ہے جس کو آج دنیا بھول چکی ہے، ہمیں اپنے تمام عرب احمدی بھائیوں کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ آج جس اسلام اور فضل سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو متمتع فرمایا ہے اس کو آگے بھی پھیلائیں اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں جب تک تمام دنیا کو ، تمام عالم عرب کو مسیح محمدی کے قدموں تلے نہ لے آئیں۔اور یہ اس لئے نہیں کہ مسیح محمدی کے قدموں تلے لانے میں مسیح محمدی کی بڑائی ہے