مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 451
مصالح العرب۔جلد دوم 427 حضور انور ایدہ اللہ کی الحوار المباشر میں تشریف آوری الْحِوَارُ الْمُبَاشَر پروگرام کے تفصیلی ذکر کے بعد تاریخی اعتبار سے ایم ٹی اے 3 العربیہ کے اجراء اور اس کے مختلف مراحل کا ذکر کرنے کے بعد اب ہم الْحِوَارُ الْمُبَاشَر کے ایک نہایت اہم، عظیم الشان و بابرکت دن کی بات کریں گے، اس ساعت کا تذکرہ کرتے ہیں جو اس پروگرام کے سر پر ایک تاباں تاج کی مانند ہے، یہ وہ دن تھا جب حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بنفس نفیس الْحِوَارُ الْمُبَاشَر میں تشریف لائے اور اپنے وجود باجود سے اسے برکت اور رونق بخشی۔جون 2008ء کا پروگرام الْحِوَارُ الْمُبَاشَر 27 مئی کو منائے جانے والے صد سالہ یوم خلافت کے فورا بعد آیا تھا اور اس موقعہ پر حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے تاریخی روحانی خطاب کی عظیم تاثیر ہر احمدی کے قلب و ذہن میں تازہ تھی۔اس موقع پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ماہ جون کے الْحِوَارُ المُباشر میں ” خلافت احمدیہ کے موضوع پر بات کی جائے اور عربوں کو نظام خلافت، اس کی اہمیت، برکات اور خلفائے احمدیت کی سیرت اور کارناموں کے بارہ میں بتایا جائے۔اس تاریخی موقعہ پر شرکائے اَلْحِوَارُ الْمُبَاشَر کی طرف سے حضور انور کی خدمت میں اس پروگرام میں رونق افروز ہونے اور عربوں کو براہ راست مخاطب فرمانے کی درخواست کی گئی۔صد سالہ خلافت جوبلی کے ان ایام میں حضور انور کی مصروفیت عام دنوں سے بہت زیادہ تھی اس لئے اس پروگرام میں حضور انور کی تشریف آوری کی توثیق نہ ہوسکی۔پروگرام کے پہلے