مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 425 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 425

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 401 عیسائی پادری کے چیلنج کے بارہ میں گو کہ ہم اپنے مشائخ کو ارفع قرار دیتے ہیں کہ وہ اس کی معمولی معترض کا جواب دیں، لیکن مشائخ نہیں تو کوئی تو ایسا ہو جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کے لئے اور خدا کی رضا جوئی کی خاطر اس پادری کو جواب دے۔خدا تعالیٰ نے آپ جیسے لوگوں کو اس کام کے لئے چنا ہے کہ یہاں بیٹھ کر اس شخص کا منہ توڑ جواب دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے۔قبل ازیں ہم اس عیسائی پادری کی اسلام دشمن مہم کے بارہ میں الا زہر کا موقف بیان کرچکے ہیں۔لیکن یہاں اُم محمد صاحبہ آف سعودی عرب کی فون کال کے حوالے سے ایک اہم امر کی وضاحت ضروری ہے۔وہ یہ کہ گو پادری نے الا زہر کا نام لے کر چیلنج کیا کہ اگر کوئی ان میں سے میری باتوں کا جواب دینے کی طاقت رکھتا ہے تو میرے سامنے آئے۔اس کے باوجود علمائے از ہر نے اس کو کوئی جواب نہ دیا اور عامتہ الناس میں اس کے ایک بڑے اہم سبب نے بہت گردش کی جس کا ذکر اُم محمد کی اس فون کال میں ہے۔یعنی یہ کہ پادری تو بہت معمولی شخصیت ہے اس کی شیخ الا زہر یا الا زہر کے دیگر مشائخ سے کیا نسبت؟ بلکہ اس کی مثال یوں ہے کہ کسی گاؤں کی مسجد کا مولوی کھڑا ہو کر کہے کہ میں پوپ کو چیلنج کرتا ہوں کہ میرے سامنے آئے اور میرے سوالوں کا جواب دے۔لہذا الا زہر کے مشائخ کی طرف سے اس طرح کے پادری کا جواب نہیں دیا جائے گا۔لیکن قارئین کرام کو اس سقیم طرز فکر کے نقصان کا اندازہ ہو گیا ہو گا جس کا نتیجہ سوائے یاس وحسرت کے کچھ نہیں۔اور اسی حسرت کا اظہار اُم محمد صاحبہ نے کیا ہے کہ ٹھیک ہے اگر علماء اس کو جواب نہیں دیتے تو کوئی تو ہو جو اس پادری کا منہ بند کرے کیونکہ یہاں اپنی عزتوں اور جھوٹی اناؤں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف و ناموس کی حفاظت و دفاع کا ہے۔کسی علمی رو کی ضرورت نہیں۔( الا زہر ) اس وضاحت کے بعد اب ہم دوبارہ رڈ عیسائیت کے اس پہلے لائیو پروگرام کی طرف لوٹتے ہیں جس میں الازہر کے شعبہ حدیث کے صدر ڈاکٹر عزت عطیہ نے بھی فون کر کے