مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 421
397 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم احباب نے فون کر کے مبارکباد دی اور دو غیر از جماعت احباب نے بھی اپنے سوال کئے۔تین روز کے اس پروگرام کے آخر پر یہ کہا گیا کہ ہم کوشش کریں گے کہ ایسے پروگرام ہر ماہ می کئے جائیں اور احمدی احباب سے درخواست ہے کہ انٹرنیٹ پر ان پروگرامز کا خوب چرچا کر دیں تا که غیر از جماعت احباب کثرت سے اس میں شامل ہوں اور اپنے شکوک اور اعتراضات کا درست جواب حاصل کر سکیں۔دسمبر میں محمد شریف عودہ صاحب جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کے لئے چلے گئے اور جنوری میں واپسی ہوئی لہذا اگلا پروگرام فروری 2006ء میں ہوا۔پروگرام کا نام "الْحِوَارُ الْمُبَاشَر" اس پروگرام کے لئے بہت سے نام تجویز ہوئے لیکن مکرم تمیم ابو دق صاحب آف اردن کے مجوزه نام "الحِوَارُ الْمُباشر" پر اتفاق کیا گیا اور حضور انور کی منظوری کے بعد اس کو اختیار کیا گیا۔لہذا 2 تا 4 فروری 2006 کو ہونے والا لائیو پروگرام الْحِوَارُ الْمُبَاشَر“ کے نام کے ساتھ شروع ہوا جس میں ہجرت نبوی اور اس سے ملنے والے دروس کے حوالے سے اسلام کی رواداری اور امن پسندی اور اس حوالے سے احمدیوں کو تختہ مشق ستم بنانے کے غیر اسلامی افعال کے بارہ میں بات ہوئی۔اور اس کے بعد سے یہ پروگرام ہر ماہ با قاعدگی سے ہونے لگا۔پروگرام کا موجودہ فارمیٹ مارچ 2006ء کا ”الْحِوَارُ الْمُبَاشَر اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں پروگرام کا موجودہ فارمیٹ بنا جو بفضلہ تعالیٰ آج تک قائم ہے، یعنی محمد شریف صاحب میز بان، دو عدد عرب احمدی علماء اور عربک ڈیسک میں سے ایک ممبر قبل ازیں تقریبا تین ماہ کے پروگرامز میں یا تو صرف دو عرب احمدی علماء ہی تھے جن میں سے ایک میزبان اور ایک مہمان ہوتا تھا یا ان کے ساتھ عربک ڈیسک میں سے ایک دوست ہوتے تھے۔اس نئے فارمیٹ میں بھی خدا تعالیٰ کی خاص حکمت تھی اور اسی کی تدبیر سے سب ہوا۔اس کی تفصیل مکرم مصطفیٰ ثابت صاحب یوں بیان کرتے ہیں کہ: ”جب ایم ٹی اے پر پروگرام أَحْوِبَة عَنِ الْإِيْمَان چلے تو اس پر ہمیں بہت زیادہ Responce ملنا شروع ہوا جس کی وجہ سے محمد شریف عوده صاحب امیر جماعت کبابیر نے