مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 414
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا۔“ کسر صلیب کے لئے بے نظیر معرفت 390 یہاں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ مکرم مصطفی ثابت صاحب کے پروگرامز کے بعد متعدد مسلمان علماء نے بھی یہی اسلوب اپنایا اور اسی طریق پر عیسائی عقائد اور تعلیمات کا رڈ کیا ، جوان کی طرف سے خاموش اعتراف ہے کہ آج اگر صلیب کو توڑنے کا کوئی حربہ ہے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ہے۔اور اس کو استعمال کئے بغیر یہ کام کرنا ناممکن ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ: ” خدا تعالیٰ نے مجھے کسر صلیب کے لئے وہ معرفت عطا فرمائی کہ اس کی نظیر دوسرے نجم الہدی، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 105 ) مسلمانوں میں پائی نہیں جاتی۔“ أجُوبَة عَنِ الْإِيْمَان۔۔۔کتابی صورت میں پہلی تھیں قسطوں کے ٹیکسٹ پر مشتمل کتاب أجوبة عَنِ الْإِيْمَانِ کے نام سے ہی مصر میں شائع ہوئی، اس کی اشاعت کے بارہ میں مکرم مصطفیٰ ثابت صاحب بیان کرتے ہیں کہ: میرا ایک مصری دوست احمد رائف تھا جس کا تعلق اخوان المسلمین سے تھا۔پچاس کی دہائی میں میرا اس سے تعارف ہوا۔جب اسے پتہ چلا کہ میں احمدی ہو گیا ہوں تو ادھر ادھر سے سن کے اس نے بھی مکرم محمد بسیونی صاحب صدر جماعت کے پاس جا کر بیعت کر لی۔لیکن دراصل اس کا مقصد یہ تھا کہ اس نے کہیں سے غلط پروپیگنڈہ سنا تھا کہ جماعت بیعت کرنے والے کو مال دیتی ہے۔چنانچہ جب احمدی ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ یہاں سے لینے کی بجائے چندہ دینا پڑتا ہے، لہذا یہ احمدیت چھوڑ گیا۔لیکن اس عرصہ میں ایک یہوو او ٹنس فرقہ سے تعلق رکھنے والے عیسائی اور ایک چرچ کے پادری سے میری عیسائی عقائد کے بارہ میں بحث ہوتی رہتی تھی اور احمد رائف صاحب میرے ساتھ ہوتے تھے جو اکثر حیران ہو کر پوچھا کرتے تھے کہ تمہارے پاس یہ علوم کہاں سے آئے ہیں؟ اس کے بعد ساٹھ کی دہائی میں یہ قید ہو گئے اور بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ازاں بعد ان کی رہائی ہوئی تو انہوں نے اپنا دار النشر کھول لیا۔جب عیسائی پادری