مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 411
387 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم کے دلائل کو اپنی الہامی کتاب سے ثابت کرے۔چنانچہ آپ نے جب اپنی کتب میں عیسائیوں کے بعض باطل عقائد اور عیسائیوں کے مزعومہ یسوع کے بعض قابل اعتراض اخلاق و اقوال درج فرمائے تو دراصل یہ ان کی وہ صورت تھی جو عیسائی کتب میں مذکور تھی نہ کہ وہ جسے قرآن کریم بیان کرتا ہے۔اس لئے بعض نادان نا سمجھی میں آج تک ان تحریرات پر اعتراض کرتے جارہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام کے بارہ میں سخت کلمات استعمال فرمائے ہیں۔حالانکہ آپ نے عیسائی کتب کے مطابق انجیلی یسوع کی حقیقی تصویر نقل فرمائی ہے تا منصف مزاج لوگ فیصلہ کر سکیں کہ کونسی کتاب عیسی علیہ السلام کو ان کا صحیح مقام دینے والی تعلیم لائی ہے اور کس کتاب کی تعلیم ان کی کسر شان کی مرتکب ہوتی ہے۔بہر حال یہی طریق مصطفیٰ ثابت صاحب نے اختیار کیا اور عیسائی پادری کی بیان کردہ عیسائیت کی تعلیم کو بائبل سے ہی غلط ثابت کیا۔جس کی وجہ سے پادری کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور وہ زیادہ دیر اپنے موقف پر کھڑا نہ رہ سکا۔جدید علم کلام پر ایک نوٹ یہاں پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تاریخی اعتبار سے اس جدید علم کلام کی کسی قدر وضاحت کر دی جائے تا کہ اس طرح قارئین کرام کو اس عظیم مہم اور شاندار کارنامہ کا کچھ اندازہ ہو سکے گا۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر سر انجام دیا ہے۔مولا ناشبلی نعمانی نے علم الکلام کے موضوع، تاریخ اور اس کے تدریجی ارتقاء کے بارہ میں و علم الکلام کے نام سے ایک جامع کتاب تالیف فرمائی جس میں آپ لکھتے ہیں: علم کلام نے اگر چہ بارہ سو برس کی عمر پائی لیکن کمال کے رتبہ تک نہ پہنچ سکا۔“ ( علم الکلام صفحہ 129 بحوالہ کسر صلیب تالیف عطاء المجیب راشد صاحب صفحه 20) پھر لکھتے ہیں: ’ حال میں علم کلام کے متعلق مصر، شام اور ہندوستان میں متعدد کتابیں تصنیف کی گئی ہیں اور نئے علم کلام کا ایک دفتر تیار ہو گیا ہے، لیکن یہ نیا علم کلام دو قسم کا ہے۔یا تو وہی فرسودہ اور دُور از کار مسائل اور دلائل ہیں جو متاخرین اشاعرہ نے ایجاد کئے تھے۔یا یہ کیا ہے کہ یورپ کے ہری