مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 410 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 410

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم ہمارا طریق 386 ہم تو انہی اصولوں کی پیروی کرنے والے ہیں جو ہمیں خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں سکھائے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے غیر مسلموں سے بحث کرنے کا بنیادی اصول یوں بیان فرمایا ہے کہ : وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلى هُدًى أَوْ فِي ضَللٍ مُّبِينٍ (سبا: 25 ) یعنی گو کہ ہمیں پتہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے حق پر ہیں لیکن آپ کی تسلی کے لئے ہم اس نقطہ سے بحث کا آغاز کرتے ہیں کہ دیکھیں حق پر کون ہے؟ آپ یا ہم ؟ اور گمراہ کون ہے؟ آپ یا ہم؟ لہذا آپ کے اعتراضات کا جواب دینے سے قبل دیکھ لیتے ہیں کہ اسلام کے بدلہ میں جو دین آپ ہمیں دینا چاہتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے؟ لہذا ہمارا حق ہے کہ آپ کے عقائد کو آپ کی کتاب کی رُو سے چیک کریں اور قبول کرنے سے پہلے ان کی صداقت کو پرکھیں۔چنانچہ بائبل پر ایک نظر سے معلوم ہوتا ہے کہ تثلیث کا عقیدہ آپ کا تراشیدہ ہے۔یسوع کو جن معنوں میں بیٹا کہا گیا ان معنوں میں تو تمام بنی اسرائیل کو بیٹے کہا گیا ہے۔اناجیل یسوع کی نسبت نہایت رذیل قسم کے اخلاق بیان کرتی ہیں۔اناجیل کے مطابق یسوع صلیبی موت سے بچ کر اس علاقے سے ہجرت کر گئے تھے ، اور اگر وہ صلیبی موت سے بچ گئے تھے تو آپ کے موجودہ دین کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے جو کفارہ کے تصور پر قائم ہے۔اب آپ ہی ہمیں بتائیں کہ ہم اس دین کو کس طرح مانیں جسے آپ کی اپنی کتاب ہی جھوٹا قرار دے رہی ہے۔اس بات کے ثبوت کے بعد ہم بتائیں گے کہ اسلامی تعلیم پر مشتمل الہامی کتاب قرآن کریم کے مطابق کس طرح اسلام ہی سچا اور منجانب اللہ مذہب ٹھہرتا ہے۔جو بات صریحا کتاب اللہ کے مخالف ہوگی اسے اصل تعلیم کا حصہ نہیں سمجھا جائے گا۔لہذا دیگر کتب کی نصوص اور روایات پر اعتراض ان کے مؤلفین پر نقطہ چینی کے طور پر تو ہوسکتا ہے اس کا اصل الہامی تعلیم پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔کا سر صلیب کے علم کلام کی خصوصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس علم کلام کی بنیاد رکھی اس کی رُو سے آپ نے فرمایا کہ ہر مذہب اپنی کتاب کی رُو سے اپنی صداقت ثابت کرے، اور اپنے جملہ عقائد اور ان کی صحت