مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 409
385 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم کئی ایک ٹی وی پروگراموں اور ویب سائٹس پر بھی ان پروگراموں کو سراہا گیا۔ان کی پروگراموں کا تحریری نسخہ کتاب کی شکل میں مصر میں شائع ہو گیا۔جس کو کافی مقبولیت اور پذیرائی کی حاصل ہوئی ہے۔ایک ماہ میں جب یہ 30 پروگرام ایک پروگرام روزانہ کے حساب سے چل چکے تو اتنے میں مکرم ثابت صاحب کے مزید 30 پروگرام بھی تیار ہو کر آگئے۔یوں روزانہ ایک نیا پروگرام چلایا جاتا اور اور اس کے ساتھ پہلی کھیپ کے 30 پروگرامز میں سے ایک پروگرام کو نشر مکرر کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔قارئین کرام ضرور جاننا چاہیں گے کہ آخر مصطفیٰ ثابت صاحب کے پروگرامز میں ایسی کیا بات تھی؟ اور وہ کون سا اسلوب تھا جس نے پادری کے پورے کھیل کا پانسا پلٹ دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ثابت صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جدید علم کلام کو استعمال کیا اور انہی خطوط پر اپنے جوابات تیار کئے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیت کے فتنہ کو فرو کرنے کیلئے وضع فرمائے تھے۔تقلیدی طریق سے منظم کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس مذکورہ اسلوب کے بارہ میں کچھ لکھنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تقلیدی طریق اور اس کے بڑے سقم کے بارہ میں کچھ عرض کر دیا جائے۔عیسائیت کے فتنہ کا مقابلہ کرنے میں دیگر مسلمان علماء کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ یہ فیصلہ کر بیٹھے ہیں کہ جن نصوص و تفاسیر کی بنا پر اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے وہ اور ان کو لکھنے والے غلطی سے پاک ہیں لہذا جو کچھ ان کی کتب میں لکھا ہے سب سچ ہے خواہ صریحا وہ قرآنی آیات اور احادیث نبویہ سے ٹکراتا ہو۔لہذا اس مجبوری کی بنا پر وہ ان نصوص و روایات و تفاسیر کی وضاحت کرتے ہیں۔لیکن اکثر مسلمانوں کا ان کتب کے مؤلفین کو ائمہ اور مجددین قرار دینا ان کے ہر وضاحتی جواب کو کمزور کرنے کے لئے کافی ہے۔بعض علماء کے اسی اسلوب کی بنا پر عیسائی پادری کے بیشتر اعتراضات اپنی جگہ پر جوں کے توں قائم رہے بلکہ ایسے جوابات نے پادری کی خنجر صفت زبانِ اعتراض کے گھاؤ مزید گہرے کر دیے۔