مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 406
382 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم اور تو اور اس پروگرام کی میزبان نے جو ایک عرصہ سے بعض دینی اور معاشرتی امور پر کی نہایت کامیاب پروگرام کر رہی تھی اور حجاب اوڑھا کرتی تھی اپنا حجاب اتار دیا جسے عیسائیوں نے خوب اچھالا۔ی محض ایک مثال ہے جو یہاں بیان کی گئی ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ کئی کمزور ایمان اس حملہ کی زد میں آگئے اور کئی اس کی رو میں بہہ کر اسلام سے منحرف ہو بیٹھے۔امید کی کرن ان ایام میں مکرم طلا قزق صاحب مرحوم آف اردن نے حضور انور کی خدمت میں اس صورتحال کے بیان پر مشتمل خط لکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب "مسیح ہندوستان میں“ اور حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی کتاب Christianity: A Journey from Facts to Fiction کے عربی ترجمہ کو بکثرت چھپوا کر عرب ملکوں میں پھیلانے کی تجویز عرض کی۔اسی طرح ہمارے ایک مصری قدیم احمدی مکرم عمر و عبدالغفار صاحب نے 8اگست 2004 ء کو حضور انور کی خدمت میں لکھا کہ عیسائیت کا فتنہ آج اپنے عروج پر پہنچا ہوا ہے اور متعدد علاقوں میں کئی مسلمان عیسائی ہو گئے ہیں۔میں مختلف مولویوں کے جوابات سنتا ہوں لیکن ان کا دفاع نہایت کمزور ہے کیونکہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر عمل نہیں کیا اور امام مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کیا ہے اس لئے جماعت احمدیہ کے سوا اس کا کافی وشافی جواب اور کوئی نہیں دے سکتا۔لہذا میری تجویز ہے کہ اس بارہ میں لائیو پروگرامز شروع کئے جائیں، نیز مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مکرم مصطفیٰ ثابت صاحب کو ان پروگرامز کا جواب دینے کا کام سونپا جائے۔چنانچہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنی دعاؤں اور خصوصی راہنمائی کے ساتھ م مصطفیٰ ثابت صاحب کو اس بارہ میں پروگرام تیار کرنے کا ارشاد فرمایا۔2004ء کے آخر پر مکرم محمد شریف عودہ صاحب کی تجویز پر حضور انور نے کہا بیر میں ان پروگرامز کی تیاری اور ریکارڈنگ کی اجازت مرحمت فرمائی اور یوں مکرم مصطفیٰ ثابت صاحب 2005ء میں کہا بیر