مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 403 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 403

379 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم امور کے علاوہ اس پادری نے مختلف اسلامی فرقوں کے آپس کے اختلافات کو بھی پیش کر کے مختلف اعتقادات کا مذاق اڑایا۔اور سب سے زیادہ ان بے سروپا روایات اور خرافات کو پیش کیا جن کو مفسرین نے بغیر تحقیق کے ایک دوسرے سے نقل کیا ہے اور آج تک مولوی حضرات اپنی تقاریر اور وعظوں اور کتب میں ان کو نقل کرتے چلے آرہے ہیں، جبکہ اسلامی تعلیمات سے ان کا دُور کا بھی تعلق نہیں ہے۔اس پادری نے اپنے پروگرام کا نام أسئلة عن الإيمان رکھا، اور اسلام کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنے کے علاوہ بعض ایسے عرب لوگوں کو بھی اپنے پروگرام میں دنیا کے سامنے پیش کیا جنہوں نے اس کے بقول اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر لی تھی۔یہ کہ یہ ایک ایسا حملہ تھا جس کا مسلمان مولویوں کے پاس کوئی منطقی جواب نہ بن پڑا۔اوّل تو اس حملہ نے مسلمانوں کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا تھا۔لیکن دفاعی پوزیشن میں بھی ان کی حالت نہایت ہی بے سروسامانی کی تھی۔عیسائی پادری مسلمان علماء کی کتب و تفاسیر کے حوالے نکال کر دکھاتا تھا اور کہتا تھا کہ اس کا کوئی جواب ہے تو دو۔اور کوئی ان امور کے رڈ میں بولنے والا ہو تو سامنے آئے۔مناسب جواب نہ ملنے کی وجہ سے کئی کمزور ایمان لوگ اسلام سے نکل کر عیسائیت کی آغوش میں جا پہنچے۔بعض عرب ممالک میں عیسائیت کی یہ یلغار اتنی شدید تھی کہ کثرت سے لوگ اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت کے جال میں پھنسنے لگے۔بلکہ ان میں سے بعض تو اسلام کے خلاف اس مہم میں بھی شریک ہو گئے۔مسلمانوں کارڈ عمل پادری نے جہاں تمام مسلمانوں کو للکارا وہاں بڑے بڑے مولویوں کو بلکہ الا زہر کے علماء کو بھی چیلنج دیا کہ اگر ہمت ہے تو وہ میرے سامنے آکر ان امور کا جواب دیں جو انہی کی کتب سے پیش کئے گئے ہیں۔لیکن اس پادری کا منہ توڑ جواب دینے کی بجائے اسلامی دنیا میں مندرجہ ذیل رد عمل سامنے آئے: 1۔بعض جو شیلے اور ناسمجھ مسلمانوں نے بدزبانی اور بدکلامی کے چند جملے بول کر یہ سمجھا کہ دفاع اسلام کا فریضہ ادا ہو گیا ہے۔