مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 402
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 378 یہاں برائن انگلینڈ میں بھی کام کیا، بالآخر آرتھوڈ کس چرچ سے استعفیٰ دے کر اسلام دشمن حملہ میں شامل ہو گیا۔مصرعیسائیت کے فرقہ آرتھوڈ کس کا مرکز مانا جاتا ہے۔یہاں پر عرصہ دراز سے عیسائی اور مسلمان اکٹھے رہ رہے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے سے پر ہیز کیا جاتا ہے، بلکہ اب تو معاشرہ کا امن برقرار رکھنے کے لئے اس بارہ میں ملکی سطح پر قانون سازی بھی کی گئی ہے، جس کی بناء پر آرتھوڈ کس چرچ سے منسلک کوئی پادری کھلے عام اسلام دشمنی پر مبنی مہم شروع نہیں کر سکتا۔یہاں سے ہمیں اس پادری کے الحیاۃ چینل کی اسلام دشمن مہم میں شریک ہونے سے قبل آرتھوڈ کس چرچ سے استعفیٰ دینے کی بات بھی سمجھ آجاتی ہے۔کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آرتھوڈ کس چرچ سے منسلک ہونے کی وجہ سے مصر میں اس پر دباؤ بڑھ جانا تھا اور اس حملہ کو رو کے بغیر چارہ نہیں ہونا تھا۔اور حقیقتا ایسا ہی ہوا کہ جب آرتھوڈ کس چرچ سے اس کا شکوہ کیا گیا تو چرچ نے واضح طور پر اس سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا کہ اس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہے۔پادری کے مصادر ومراجع اس پادری نے اپنے پروگراموں میں خصوصی طور پر ان روایات اور مسلمانوں کے ان عقائد کو موضوع بحث بنایا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے قرآن کی حقیقی تعلیم سے دور ہونے کا باعث بنے اور بالآ خر غلط فہمیوں اور بگاڑ نے وہ صورت اختیار کر لی جس کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اسلام پر ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ اس کا صرف نام باقی رہ جائے گا۔اور یہی وہ عقائد ہیں جن کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ہے۔مثلاً ناسخ و منسوخ کے عقیدہ نے قرآن میں شک وریب کی راہ کھول دی، اور حدیث کو قرآن کریم پر حکم قرار دے کر قرآنی آیات کے منسوخ کرنے کے عقیدہ نے روایات کو قرآنی آیات پر بھی فوقیت دے دی۔اسی طرح لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّين کے عظیم الشان اعلان کے باوجود قتل مرتد کے اعتقاد نے اسلام کو دینی آزادی سلب کر دینے والے مذہب کے طور پر پیش کیا۔خود تراشیدہ جنگ و جدال کے متشددانہ خیالات نے امن وسلامتی کے مذہب کو ایک خونی دین کے طور پر پیش کیا۔ان تمام کی