مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 399
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 375 صلیبی فتنه آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانہ کا سب سے بڑا دجالی فتنہ عیسائیت کا فتنہ ہے جسے توڑنے کے لئے مسلمانوں کو کا سر صلیب کے مبعوث ہونے کی خبر دی ا۔عجیب بات یہ ہے کہ اس کا سر صلیب یعنی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مهدی مسعود علیہ السلام کی بعثت کے زمانے یعنی انیسویں صدی کے اواخر سے ہی بڑے بڑے پادری اور عیسائی آرگنا ئزیشنز مل کر پوری شدت کے ساتھ دنیا کو عیسائی بنانے کی پلاننگ کرنے کے لئے کا نفرنسز منعقد کرتے نظر آتے ہیں اور عیسائی حکومتوں کے پشت پناہی میں عیسائی مناد ہر روک کو پھلانگنے کی کوشش میں ہیں، جس کے نتیجہ میں وقتا فوقتا دنیا کے مختلف اسلامی ملکوں میں کر سنائزیشن کی تحریکات اٹھتی رہی ہیں۔لیکن عرب ممالک تک عموما اور ارض حجاز اور مکہ و مدینہ تک پہنچنا عیسائیت کا دیرینہ خواب رہا ہے۔کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت عربوں کے پیچھے چلتی ہے لہذا اس طریق سے عالم اسلام تک رسائی سب سے کارآمد ہتھیار ہے۔چنانچہ مشہور عیسائی مناد اور شکاگو یونیورسٹی میں موازنہ مذاہب کے لیکچرر جان ہنری بیروز (John Henry Barrows) نے اسی عرصہ میں مسیحی ترقی کا جائزہ لینے کیلئے ساری دنیا کا دورہ کیا اور اس دورہ کے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: اب میں اسلامی ممالک میں عیسائیت کی روز افزوں ترقی کا ذکر کرتا ہوں۔اس ترقی کے نتیجہ میں صلیب کی چہکار آج ایک طرف لبنان میں ضوفگن ہے تو دوسری طرف فارس کے پہاڑ اور چوٹیاں اور باسفورس کا پانی اس کی چمکار سے جگمگ جگمگ کر رہا ہے۔یہ صورت حال پیش