مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 365 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 365

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 343 مذمت کی گئی۔اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ آئندہ اس قسم کے حملوں کا سد باب کرنے کے لئے ٹھوس منصوبہ بنایا جائے۔جماعت کے بیان کا کچھ حصہ عربی روز نامہ الاتحاد ( از حیفا) میں مورخہ 26 فروری کی اشاعت میں صفحہ 16 پر شائع ہوا۔اس موقعہ پر جماعت احمدیہ کا ایک وفد الخلیل گیا۔اور شہداء کے لواحقین کے لئے دس ہزار شیکل کی امداد بھی دی گئی۔اسلامی اصول کی فلاسفی کی تصنیف پر سو سال پورے ہونے پر تقریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معرکۃ الآراء تصنیف ”اسلامی اصول کی فلاسفی پر ایک " سال مکمل ہونے کے موقعہ 28 / دسمبر 1996 ء کو ایک خصوصی جلسہ کے انعقاد کا فیصلہ کیا اور اس۔ں سے قبل اس کتاب کا عبرانی اور ایڈش زبانوں میں ترجمہ کیا۔جلسہ گاہ کے نزدیک کتابوں کی نمائش لگائی گئی جس میں اس کتاب کے مختلف زبانوں میں ترجمے رکھے گئے تھے۔اور ہر مہمان کو اُس کے مطالبہ پر عربی۔عبرانی۔ایڈش اور انگریزی زبانوں میں سے کوئی ایک تحفہ دی جاتی۔اس موقع پر جو خصوصی جلسہ منعقد کیا گیا، اُس میں حیفا شہر کے میئر اور قریباً پانچ صد غیر از جماعت صاحب علم دوست مہمانوں نے شرکت کی جس میں جلسہ کی غرض و غایت بیان کی گئی۔محترم عبد الہادی اسعد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تعارف بیان کیا اور اس کتاب میں مذکور چند اہم امور کو حاضرین کے سامنے رکھا۔ازاں نی بعد محترم فلاح الدین صاحب صدر جماعت احمد یہ کبابیر نے اس کتاب کی مقبولیت اور اثرات کے بارہ میں تقریر فرمائی۔بعد میں ڈاکٹر شحادہ (جو کہ پروٹیسٹنٹ عیسائی فرقے کے پادری تھے ) نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ان کے بعد دروز فرقے کے پروفیسر شیخ فاضل منصور نے تقریر کی۔بعد ازاں ماہر قانون علی رافع صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس جلسہ کے آخر پر خاکسار نے اسلامی اصول کی فلاسفی کی روشنی میں انسان کی پیدائش کا مقصد بیان کیا۔اُس کے بعد قرآن مجید اور تورات کی روشنی میں یہ بتایا کہ اس خطہ ارض میں امن تب قائم ہو سکتا ہے جب ”عدل“ قائم کیا جائے اور ہر قوم کو اس کا جائز حق دیا جائے اور ہر