مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 355 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 355

333 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد اُس حصہ فلسطین میں بھی باقی رہ گئی جسے ”اسرائیل“ کہا جاتا ہے۔اپنے ان فلسطینی بھائیوں کی طرح جماعت احمد یہ کبابیر کے افراد نے بھی اپنی ارضِ وطن کو نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ہر ظلم کو برداشت کیا اور ہر مصیبت کو سینے سے لگایا۔شروع میں ان لوگوں کی اقتصادی حالت بہت خراب تھی۔اسی حالت میں جب کبھی ہمارے مسلمان بھائیوں نے جماعت احمدیہ کے افراد سے مالی مدد کا مطالبہ کیا۔جماعت نے اپنی کم مائیگی کے باوجود ان کی مدد کی۔خاص طور پر جب کبھی کسی قریہ یا شہر سے مسجد بنانے یا اس کی مرمت کیلئے افراد جماعت کہا بیر سے مدد و استعانت چاہی گئی جماعت احمدیہ نے فراخ دلی سے ان کی مدد کی۔بعض کے اسماء درج ذیل ہیں۔1 - مسجد السلام بمقام الناصرة 2 - مسجد الهدى بمقام جبل الدولۃ الناصرة ،3۔مسجد المشهد بمقام المنش بمقام المشهد 4 - مسجد الطن بمقام البطن ، 5 - مسجد الصديق بمقام الناصرة ، 6 - مسجد النور بمقام رینہ، 7 - مسجد النور مقام الناصرة 8 - مسجد الحنين الجديد بمقام کنین ، 9 - مسجد المغار بمقام مغار، 10 - مسجد عمر بن الخطاب بمقام شفاعمر، 11- مسجد كفر قرع بمقام كفر قرع ، 12 - مسجد ام الفحم بمقام ام الفحم۔کبابیر میں صد سالہ جو بلی تقریبات کا انعقاد 1989ء۔1889ء دنیا کی تمام جماعتہائے احمدیہ کی طرح کہا بیر میں بھی صد سالہ تقریبات کا انعقاد ہوا۔اس کے لئے 1986 میں ہی تیاریاں شروع کر دی گئی تھیں۔جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔1۔جامع سید نا محمود کی تعمیر کی تکمیل۔2۔مسجد کے دو میناروں کی تعمیر کی تکمیل جن کی بلندی تینتیس تینتیس (33-33) میٹر ہے۔3۔مسجد کی زمین کے ارد گرد پتھر کی خوبصورت چاردیواری بنا کر دو طرف گیٹ لگوانا، اردگرد کے علاقے کی تزئین وغیرہ کا کام مکمل کرنا۔4۔مسجد کے ہال میں کتابوں کی جو نمائش ہے اُس کو مزید بہتر بنانا۔5 منتخب آیات، احادیث، اقتباسات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عبرانی اور ایڈش (Yidish) زبانوں میں تراجم شائع کرنا۔