مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 354
مصالح العرب۔جلد دوم 332 جماعت احمدیہ کبابیر کی طرف سے مستحق فلسطینیوں کی مالی امداد دسمبر 1988ء کو دریائے اردن کے مغربی کنارہ پر آباد فلسطینی علاقے اور غزہ میں ایک انقلابی تحریک شروع ہوئی اور جوں جوں اس میں شدت پیدا ہوئی اسرائیلی حکومت کی سختیاں بھی بڑھتی گئیں۔فلسطینی مزدورں کی ایک بہت بڑی تعداد صبح سویرے اسرائیلی علاقہ میں محنت مزدوری کرتی اور شام کو واپس چلی جاتی۔یہی اُن کی گزر بسر کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔حکومت اسرائیل جب انہیں سزا دینا چاہتی ان کی اسرائیل میں آمد پر پابندی لگا دی جاتی۔چنانچہ ان پابندیوں کی وجہ سے فلسطینیوں کے اقتصادی و معاشی حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ایسے حالات میں جماعت احمد یہ کہا بیر نے اپنی استطاعت کے مطابق خدمت خلق کے جذبہ کے تحت مندرجہ ذیل اقدام ٹھائے۔سال میں کم از کم دو بار تمام افراد جماعت کہا بیر نئے پرانے کپڑے مسجد کے نچلے ہال میں جمع کر دیتے۔ممبرات لجنہ بچوں، بچیوں ، عورتوں، مردوں کے کپڑے الگ الگ کرتیں۔پھر انہیں فلسطینی علاقوں اور غریب بستیوں اور مستحقین میں تقسیم کیا جاتا۔آٹا چاول دال تیل وغیرہ خوردنی اشیاء کے تھیلے غریب فلسطینیوں کے گھر پہنچائے جاتے۔ماہ اگست ستمبر میں جب اسکول اور مدر سے کھلتے مستحق بچوں کو کتابیں اور کاپیاں دی جاتیں۔بیوگان اور یتامیٰ کی خاص طور پر مدد کی جاتی۔مریضوں کے علاج کے لئے ہر ممکن مالی مدد کی جاتی۔صدقۃ الفطر کا بڑا حصہ انہیں غرباء میں تقسیم کر دیا جاتا۔عید الاضحیٰ کے موقعہ پر قربانی کے جانوروں کا گوشت بھی اُن میں تقسیم کیا جاتا۔جماعت احمد یہ کہا بیر کی طرف سے غیر احمدی مسلمانوں کی امداد 1948 میں فلسطینیوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو اس وقت کے فلسطین سے ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔اور اس میں جماعت احمدیہ کے افراد کی بھی خاصی تعداد تھی۔بعض مقامات سے تمام کے تمام افراد جماعت کو ہجرت کر کے پاس کے عرب ملکوں میں پناہ لینی پڑی۔اس کے علاوہ