مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 352 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 352

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 330 الصنارة‘ نے اپنی 6 نومبر 1987ء کی اشاعت میں ایک اور مخالف کا مقالہ جماعت کے خلاف شائع کر دیا جس میں جماعت پر شدید اعتراض کے گئے تھے۔اس مقالہ کا جواب جماعت کی طرف سے اسی ہفتہ روزہ میں 20 نومبر 1987ء میں شائع ہوا۔بعد ازاں اسی ہفت روزہ میں 27 نومبر 1987ء کو ایک اور مقالہ جماعت کے خلاف شائع ہوا۔اور اس کا عنوان تھا بعض نقاط الخلاف بين أهل السنة والجماعة الأحمدية‘جس کا جواب جماعت کی طرف سے 11 دسمبر 1987 ء کے شمارہ میں شائع ہوا۔لیکن افسوس کہ مفتی روزه ” الصنارة “ نے غیر جانب داری کا ثبوت نہیں دیا۔کیونکہ اس نے جماعت احمدیہ کے خلاف ایک انتہائی مخالفانہ مضمون شائع کر کے یہ اعلان کیا کہ ہم اب اس سلسلہ کو بند کرتے 66 ہیں۔چنانچہ مجبورا ہم نے اس مضمون کا جواب مجلۃ البشری میں شائع کر دیا۔ان مضامین کی اشاعت سے ہزاروں افراد تک جماعت احمدیہ کی تبلیغ پہنچ گئی۔بعد ازاں بہت سے افراد نے رابطہ کر کے ہم سے لٹریچر منگوایا اور مختلف مسائل کے بارہ میں معلومات حاصل کیں۔خدام الاحمدیہ کے اجتماعات 1986ء کے شروع میں مجلس خدام الاحمدیہ کبابیر کو از سر نو منظم کیا گیا اور فعال بنایا گیا چنانچہ 1986ء 19ء 12 فروری 1986ء کو مجلس نے اپنا پہلا سالانہ اجتماع مدرسہ احمدیہ کہا بیر کی گراؤنڈ میں منعقد کیا۔اس کے بعد بفضلہ تعالیٰ ہر سال خدام الاحمدیہ کا سالانہ اجتماع منعقد ہوتا رہا۔ایک اجتماع کے بارہ میں: 1۔حیفا سے شائع ہونے والے اخبار الانوار نے مورخہ 18ر پریل 1988ء کی اشاعت میں مندرجہ ذیل خبر شائع کی: جبل کرمل کے محلہ کہا بیر نے بروز جمعہ و ہفتہ دوروز عظیم الشان اجتماع مشاہدہ کیا ہے جس میں سینکڑوں طلبا اور نو جوانوں نے حصہ لیا۔یہ تیسرا سالانہ اجتماع ہے جو مجلس خدام الاحمدیہ نے منعقد کیا ہے۔اس اجتماع میں دو روز تک ورزشی مقابلہ جات منعقد ہوئے۔اور مختلف ٹیموں نے 1ء سے مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماعات کے انعقاد کا سلسلہ شروع ہوا۔