مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 346 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 346

مصالح العرب۔جلد دوم 326 اس وقت بے شک تمہیں اپنے گھٹنوں کے بل بھی چل کے جانا پڑے اور برف کے تودوں پر سے بھی گزرنا پڑے تو اسکے پاس جاؤ ”فَبَايِعُوه ، پس اسکی بیعت کرو۔اور اگر یہ حدیث نہ بھی ہوتی تو بھی Common Sense تقاضا کرتی ہے کہ اگر ایک شخص کو خدا تعالیٰ کھڑا کرتا ہے تو اسے مانا جائے اور اس پر ایمان لایا جائے۔اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے اس نبی پر ایمان نہیں لاتا تو کیا پھر بھی وہ شخص جسے تم نیک بتا رہے ہو، نیک اور صالح کہلا سکتا ہے۔نیک وہ ہے جو خدا کے حضور نیک لکھا جاتا ہے۔اور ایسے لوگوں کو ہر حال میں خدا تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانا اور اسے قبول کرنا لازم ہے۔اگر وہ چاہتے ہیں کہ نیک لوگوں میں ان کا شمار ہو تو پھر ان کا فرض ہے کہ وہ کی آپ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور سچائی کے ثبوت اور دلائل طلب کریں۔بعد اس کے اگر وہ سمجھتے ہیں کہ صداقت کے جو ثبوت اور دلائل انہیں دیئے گئے ہیں اور احمدیت کے متعلق جو انہوں نے مطالعہ کیا ہے اس سے ان پر یہی ظاہر ہوا ہے کہ احمدیت جھوٹی ہے اس میں کوئی سچائی نہیں تو پھر وہ بے شک اسی نہج پر رہیں جس پر وہ چل رہے ہیں۔کیونکہ پھر کوئی اور چارہ یا اختیار نہیں۔لیکن اگر خدا تعالیٰ کے نام کے ساتھ ایک آواز اٹھتی ہے تو کوئی نیک انسان یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ اس سے بالا ہے۔اگر وہ اپنے آپ کو اس سے بالا سمجھتا ہے تو ایسی صورت میں اس کا شمار کسی اور گروہ میں ہو گا جس کا ذکر قرآن کریم میں آچکا ہے۔( لقاء مع العرب بتاریخ 25 نومبر 1995ء)